فلسطینی محکمہ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ے کہ مارچ میں صہیونی فوجیوں اور پولیس نے مزید 09 صحافیوں اور ابلاغیات کےشعبے میں کام کرنے والے نوجوانوں کو گرفتار کیا۔
رپورٹ کے مطابق صہیونی پولیس کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء علاقے میں سرگرم بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے امور پرخبریں دینے والے ادارے’’کیو پریس‘‘ سے وابستہ کارکنوں کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔
اس کے علاوہ مارچ میں گرفتارہونے والوں میں بیت لحم نیوز نیٹ ورک کے نامہ نگار اسلام سالم اورالخلیل ریڈیو چار کے نامہ نگار علی العویوی بھی شامل ہیں جنہیں فلسطینی مظاہرین کی کوریج کے دوران حراست میں لیا گیا۔
اس سے قبل صہیونی فوجیوں نے الاقصیٰ ٹی وی کے نامہ نگار علاء الطیطی کو بھی الخلیل ہی سے حراست میں لیا گیا۔ ان کی رہائی کے لیے دی گئی درخواست بھی مسترد کردی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مارچ میں فلسطینی شہریوں کے خلاف جاری اسرائیلی فوج کے وحشیانہ کریک ڈائون کے نتیجے میں جہاں عام شہریوں کی اندھا دھند گرفتاریوں اور ان پر تشدد کا سلسلہ جاری رہا وہیں تشدد کے واقعات میں کم سے کم سات صحافیوں کو بھی زخمی کیا گیا۔
زخمی ہونے والے صحافیوں میں القدس اخبار کے فوٹو گرافر محمود علیان،شذی حماد، مروہ عبید للتین کو رام اللہ میں بعلین کے مقام پر فلسطینیوں کے ہفتہ وار احتجاجی جلوس کی کوریج کے دوران دھاتی گولیاں مار کرزخمی کردیا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
