فلسطینی شہریوں کی املاک کوتباہ کرنے کے لیے غاصب یہودی آباد کاروں کی جانب سے سازشیں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔
ان دنوں مغربی کنارے اور دوسرے شہروں میں زیتون کے باغات میں یہ پھل پک کر تیار ہوچکا ہے جبکہ یہودی آباد کاروں کی جانب سے زیتون کے پودوں کوتباہ کرنے کی سازشیں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے مختلف شہروں میں گذشتہ ماہ اکتوبر میں قابض صہیونیوں نے فلسطینیوں کے ملکیتی زیتون کے 1900 پھل دار درخت جڑوں سے اکھاڑ پھینکے یا انہیں آگ لگا کرخاکستر کردیا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مغربی کنارے میں اسرائیل کی دیوار فاصل اور یہودی آباد کاری کے خلاف سرگرم "پیپیلز مزاحمتی کمیٹی” کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی املاک بالخصوص زیتون کے پودوں پر یہودی آباد کاروں کے حملے روز مرہ کی بنیاد پر جاری رہے ہیں۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب زیتون کا پھل اتارنے کا موسم شروع ہوچکا ہے۔ یہودی آباد کار فلسطینیوں سے اپنے حسد اور دشمنی کو آگے بڑھاتے ہوئے نہ صرف زیتون کے پودوں کو تباہ کرنے لگے ہیں بلکہ فلسطینیوں کی دیگر املاک پر بھی حملے تیز کردیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہودی آباد کاروں کی جانب سے یہ ایک ماہ میں زیتون کے پودوں پر حملوں کا ایک ریکارڈ ہے جس میں پورے مغربی کنارے سے کم سے کم انیس سو پانچ پودوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ پودے نابلس میں اکھاڑے گئے جہاں سے یہ تعداد 1356 بتائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ الخلیل سے 45 ، رام اللہ میں 180 اور قلقیلیہ میں 312 پودے اکھاڑ پھینکے گئے اور فلسطینیوں کو ان کے پھل سے محروم کردیا گیا۔
