مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی محکمہ اوقاف کی رپورٹ کے مطابق پچھلے دو مہینوں مئی اور جون میں صہیونی فوجیوں اور دیگر قابض حکام کی جانب سے قبلہ اول پر 80 پرحملے کیے گئے جب کہ بیت المقدس میں مسجد ابراہیمی کو 98 مرتبہ مختلف قسم کی بندشوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان میں مسجد میں اذان پرپابندی اور "باب الیوسفیہ” کو بند کرنے جیسے واقعات بھی شامل ہیں۔
فلسطینی محکمہ اوقاف کے ڈائریکٹر یوسف ادعیس نے اپنے ایک بیان میں بھی یہودیوں کی جانب سے پچھلے دو ماہ میں مقدس مقامات پر ہونے والے حملوں کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے خلاف اشتعال انگیزی کسی ایک شعبے یا اسرائیل کے کسی ایک ادارے کی جانب سے نہیں ہو رہی بلکہ تمام ادارے اس میں جرم میں بڑھ چھڑ کرحصہ لے رہے ہیں۔ کیا حکومت، کیا سیاست دان اور کیا فوج اور پولیس سب کے درمیان فلسطینیوں کے مذہبی حقوق کی سنگین پامالیوں کے حوالے سے ایک دوسرے کے درمیان مقابلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت بیت المقدس میں مقدس مقامات بالخصوص مسجد اقصیٰ کی بنیادوں میں کھدائیوں کی آڑ میں سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہور ہی ہے۔ نام نہاد آثارقدیمہ ایک ایسا ہتھکنڈ ہیں جن کی آڑ میں یہودی بیت المقدس میں فلسطینیوں کے مذہبی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
