مقبوضہ بیت المقدس کی ایک فلسطینی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے قبلہ اول کے قریب موجود تاریخی اسلامی قبرستان ’’باب الرحمہ‘‘ کے جنوبی حصے کی 1800 ایکڑ اراضی پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
مقامی فلسطینی تنظیموں نے اس فیصلے کو اوقاف اسلامیہ پر نیا حملہ قرار دیا۔
سپریم فالو اپ کمیٹی برائے باب الرحمہ قبرستان نے بتایا کہ قبرستان کی 1800 ایکڑ اراضی پر قبضہ دراصل پورے قبرستان پر قبضے کی پروگرام کی تمہید ہے۔ اسرائیل عثمانی دور میں قبرستان کی بند کیے گئے دروازوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل اس تاریخی قبرستان میں فلسطینیوں کے داخلے پر مکمل طور پرپابندی عائد کرنا چاہتا ہے۔
کمیٹی نے خبردار کیا کہ اسرائیل مسلمانوں کی تیسری مقدس ترین مسجد اور اس کے اطراف پھیلے بابرکت شہر کے خلاف جارحیت کا آغاز شروع کر چکا ہے۔ باب الرحمہ قبرستان اور القدس کی اولڈ میونسپلٹی کو یہودیانے کی کارروائیاں خطرے کی گھنٹیاں ہیں۔
اس موقع پر قبرستان کی دفاعی کمیٹی نے عرب اور اسلامی دنیا کی تحریکوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مسلمانوں کی بے حسی سے انتہاء پسند یہودی اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرتے جا رہے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
