(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت مقبوضہ بیت المقدس شہر میں قائم چار یہودی کالونیوں میں 1800 نئے مکانات کی تعمیر کی تیاری کررہی ہے۔ یہ چاروں یہودی کالونیاں مشرقی بیت المقدس میں واقع ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بیت المقدس میں یہودی کالونیوں میں توسیع کے لیے بیت المقدس کی اسرائیلی بلدیہ نے 9 ملین شیکل کی رقم مختص کی ہے جس سے 1600 مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس منصوبے کو امریکا کے نائب صدر ’’جون بائیڈن‘‘ کے نام سے منسوب کیا گیا جنہوں نے چھ سال قبل بیت المقدس میں یہودی توسیع پسندی کی مخالفت کی تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس میں ان ڈیڑھ ہزار مکانات کی تعمیر کا فیصلہ جو بائیڈن کے حالیہ دورہ اسرائیل سے کئی سال قبل منظور کیا گیا تھا جس میں شعفاط کے مقام پر قائم ’’رامات شلومو‘‘ نامی یہودی کالونی میں 1600 مکانات تعمیر کرنا تھے۔
خیال رہے کہ امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے امریکا کے ایک امن ایلچی کی حیثیت سے چھ سال قبل بیت المقدس کا دورہ کیا تاکہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات بحال کیے جا سکیں۔ ان کے دورے کے وقت بھی اسرائیلی حکومت بیت المقدس میں مزید مکانات کی تعمیر کا اعلان کرنا چاہتی تھی تاہم جوبائیڈن کی واپسی کے بعد بیت المقدس میں 1600 مکانات تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ جوبائیڈن چھ سال بعد گذشتہ مہینے بھی اسرائیل کے دورے پرآئے تھے۔ ان کے اس دوسرے دورے کے بعد اسرائیلی حکومت نے پہلے سے منظور شدہ مکانات کی تعمیر کا اعلان کیا ہے۔
