مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اپنے ایک بیان میں فلسطینی عہدیدار نے کہا کہ مریض قیدیوں کی تعداد میں ان کی طبی حالت میں خطرناک حد تک اضافے کی بنیادی وجہ صہیونی جیلروں اور حکومت کی شعوری غفلت ہے۔ کئی فلسطینی سال ہا سال سے پابند سلاسل ہیں ۔ گرفتاری کے وقت سے وہ مختلف امراض کا شکار چلے آ رہے ہیں۔ جیلوں میں انہیں کسی قسم کی طبی سہولیات مہیا نہیں کی گئی ہیں۔ زیرحراست 85 فلسطینیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اگر انہیں بروقت طبی امداد فراہم نہیں کی جاتی تو ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔۔
عیسیٰ قراقع کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی مریضوں کے ساتھ لاپرواہی کا دانستہ مظاہرہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اسرائیلی جیلر اور حکومتوں کی یہ طے شدہ پالیسی ہے کہ قیدی بیماریوں کے باعث سسک سسک کر جان دے دیں لیکن انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔
فلسطینی عہدیدار نے صہیونی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل فلسطینیوں بالخصوص بیماروں کے حوالے سے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت تو دانستہ طور پر فلسطینی قیدیوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے مگر عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔
