یہودیوں کے”عید عرش” کے نام سے مشہور مذہبی تہوار کے موقع پر اتوار کو بڑی تعداد میں یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصٰی میں داخل ہو کر عبادت کی آڑ میں مقدس مقام کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا ہے۔
مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم "اقصیٰ فاؤنڈیشن و ٹرسٹ” کی جانب جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز عید عرش کی عبادت کی آڑ میں کم سے کم 177 یہودی آباد کار چار الگ الگ گروپوں کی شکل میں مسجد اقصٰی میں داخل ہوئے اور تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کیں۔
اس موقع فلسطینی شہری اور دینی ادارے کے طلباء سمیت مسلمانوں کی بڑی تعداد بھی یہودیوں کی شرپسندانہ سازشوں کی روک تھام کے لیے قبلہ اول میں موجود تھی۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے تمام ترپابندیوں کے باوجود فلسطینی شہری بڑی تعداد میں قبلہ اول پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز یہودی انتہا پسندوں کے چار گروپ جن میں یہودیوں کے خاندان کے افراد خواتین اور بچے بھی شامل تھے مسجد اقصٰی کے مراکشی دروازے سے داخل ہوئے۔ یہودی آباد کاروں کو اسرائیلی فوج اور پولیس نے فول پروف سیکیورٹی مہیا کر رکھی تھی۔ یہودی آباد کار دیر تک مسجد کے مختلف مقامات میں گھومتے رہے۔ بعد ازاں مسجد کی مشرقی سمت میں جمع ہو کر مذہبی رسومات ادا کیں۔
مسجد اقصٰی کی بے حرمتی کرنے والے شرپسندوں میں یہودی پیشوا اور لیکوڈ پارٹی کے رکن "یہودا گلیک” بھی شامل تھا۔ مسٹر یہودا مسجد اقصٰی کی جگہ تیسرے ہیکل سلیمانی کے پرچارک یہودیوں کا ترجمان سمجھا جاتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
