رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران فلسطین میں اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 16 فلسطینیوں کو شہید اور 1790 کو حراست میں لینے کے بعد انہیں جیلوں میں ڈال دیا گیا۔
فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم”الاحرار” کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں پچھلے چھ ماہ کے دوران فلسطین میں اسرائیلی فوج کی غنڈہ گردی کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی کےدوران سب سے زیادہ گرفتاریاں گذشتہ جون کے مہینے میں کی گئیں۔ گرفتار کیےجانے والوں میں مردوں کے علاوہ خواتین اٹھارہ سال سے کم عمر بچے، عمر رسیدہ افراد، اراکین پارلیمنٹ، سیاسی رہ نما، اساتذہ اور صحافی بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صہیونی فوج کا فلسطینیوں کے خلاف سرچ آپریشن اور ان کی پکڑ دھکڑ مقبوضہ مغربی کنارے، مقبوضہ بیت المقدس، غزہ کی پٹی اور شمالی فلسطین میں بھی جاری رہی۔ غزہ سے کم سے کم پچیس افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں سے پانچ افراد کی گرفتاریاں غزہ کی پٹی کے قریب گذرگاہوں سے کی گئیں۔ دیگر گرفتار شدگان میں سے اکثریت ماہی گیروں کی شامل ہے جنہیں غزہ کے ساحل سے حراست میں لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کا شہر الخلیل گرفتاریوں کے حوالے سے آگے رہا۔ اس کے بعد بیت المقدس اور تیسرے نمبر پرمقبوضہ مغربی کنارے کا علاقہ نابلس قرار دیا جاتا ہے۔ جنوری کے مہینے میں 350 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ فروری میں 382، مارچ میں 236، اپریل میں 259، مئی میں 263 اورجون میں 300 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ محروسین میں فلسطین پارلیمنٹ کے کئی منتخب ارکان بھی شامل ہیں۔
اس وقت بھی صہیونی جیلوں میں زیرحراست فلسطینی ممبران اسمبلی کی تعداد 13 ہے۔ دیگر محروسین میں 33 خواتین شامل ہیں جن میں سے سترہ ابھی تک صہیونی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔ محروسات میں بعض کئی بچوں کی مائیں ہیں۔ ان میں ھبہ بدیر دو بچوں، انتصار الصیاد چار بچوں جبکہ نوال السعدی گیارہ بچوں کی والدہ ہیں۔ اس کے دو بچے صہیونی جارحیت میں شہید بھی ہوچکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں نہ صرف فلسطینی شہریوں کی گرفتاری کی مہمات جاری رہیں بلکہ سولہ فلسطینیوں کو قابض فوج نے گولیاں مار کرشہید کردیا۔ ان میں بارہ شہداء کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے سے ہے۔ ان میں صہیونی جیلوں میں مظالم برداشت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے عرفات جرادات اور میسرہ ابوحمدیہ بھی شامل ہیں۔ چار افراد کو غزہ کی پٹی میں دراندازی کے بعد گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیم”الاحرار” کے ڈائریکٹر فواد الخفش نے بتایا کہ پچھلے چھ ماہ کے دوران قابض صہیونی فوج نے نہ صرف عام شہریوں کو شہید یا انہیں گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ قابض فوج روز مرہ کی بنیادی پر مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے گھروں پرچھاپے مار کرخواتین اور بچوں کو زدو کوب کرتی رہی ہے۔ اس دوران کئی گھروں سے قیمتی سامان، نقدی اور دیگر اشیاء لوٹ لی گئیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
