اسیران حقوق کے مطالعاتی مرکز ’’احرار‘‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے فلسطینیوں کے خلاف جارحانہ کارروائیوں میں 16 افراد کو شہید جبہ 1227 کو زخمی کردیا ہے۔ شہید ہونے والوں میں بارہ مغربی کنارے اور چار کا تعلق غزہ سے ہے۔
مرکز نے واضح کیا کہ مغربی کنارے شہید ہونے والوں میں دو اسیران عرفات جرادات اور میسرہ ابو حمدیہ بھی شامل ہیں۔ ادھر اسرائیل نے مغربی کنارے کے تمام شہروں اور القدس سے گرفتاریاں بھی جاری رکھیں، اس عرصے میں غزہ سے بھی پندرہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔
رپورٹ کےمطابق 2012 کے اسی عرصے کےدوران 1340 افراد کو گرفتارکیا گیا تھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امسال فلسطینیوں کی گرفتاریاں پچھلے سال کی نسبت کچھ کم ہیں۔ سب سےزیادہ گرفتاریاں الخلیل میں ہوئیں، جہاں پر 310 افراد کو گرفتار کیا گیا، یہ تعداد کل گرفتاریوں کا 25 فیصد بنتی ہے۔ القدس میں 243 افراد کو حراست میں لیا گیا یعنی 20 فیصد گرفتاریاں یہاں پر عمل میں آئیں۔
نابلس میں تیرہ فیصد یعنی 160 افراد کو گرفتار کیا گیا باقی 42 فیصد گرفتاریاں بقیہ شہروں میں کی گئیں۔ مرکز نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے افراد میں چار اراکین پارلیمان بھی شامل ہیں۔ اس طرح صہیونی عقوبت خانوں میں زیر حراست فلسطینی مجلس قانون ساز کے اراکین کی تعداد سولہ ہوگئی ہے۔ اسی طرح دیگر فلسطینی سیاست دانوں، طلبہ، اساتذہ اور صحافیوں کو بھی بڑے پیمانے پر گرفتار کیا گیا ہے۔
مرکز احرار کے ڈائریکٹر فواد الخفش کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینی شہروں پر ہر روز کے حملوں کو درست قرار دے رکھا ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر فلسطینیوں کے گھروں میں گھس کر بے گناہ شہریوں کو گرفتار کر رہی ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
