فلسطین میں سرگرم اسیران اسٹڈی سنٹر ”احرار” کا کہنا ہے اسرائیل نے پانچ ہزار کے لگ بھگ فلسطینیوں کو قید کر رکھا ہے جن میں 16 خواتین بھی شامل ہیں۔ صنف نازک کے خلاف اسرائیلی سنگدلی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان سولہ زیر حراست خواتین میں سے نو پر سرے سے کوئی فرد جرم عائد نہیں ہے۔
صہیونی حکام نے دیگر بغیر کسی فرد جرم کے انتظامی حراست میں قید دیگر سیکڑوں فلسطینیوں کی طرح ان نو خواتین کو بھی عدالتی ٹرائل کے بغیر ہی قید کر رکھا ہے۔ کسی بھی الزام اور فرد جرم کے بغیر قید میں رہنا ان اسیرات کے لیے انتہائی تکلیف دہ بن چکا ہے۔
ان اسیرات کو گاہے بگاہے ”بوسطہ” گاڑی جو قیدیوں کے لیے بنائی گئی ہے میں بٹھا کر عدالتوں کےچکر لگوائے جاتےہیں، ایک دن ایک عدالت میں، دوسرے دن دوسری عدالت میں اور تیسرے دن پھر واپس جیل منتقل کردیا جاتا ہے۔ اس ساری پریکٹس کا مطلب ان کی اذیت میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔
احرار سنٹر کے تحقیق کار فواد الخفش نے بتایا کہ بغیر کسی فرد جرم کے گرفتار ان خاتون اسیرات نے متعدد بار مطالبہ کیا کہ انہیں قیدیوں کی گاڑیوں میں بٹھانے کے بجائے مخصوص کاروں میں سفر کروایا جائے تاہم صہیونی حکام اسے یکسر نظر انداز کرتے رہے۔
ان کے مطابق اس وقت صہیونی عقوبت خانوں میں موجود ان نو خاتون قیدیوں میں نابلس کے عصیرہ ٹاؤن کی آلاء قاسم جو 09 فروری 2013 میں گرفتار کیا گیا تھا، طوباس کی سیرین صوافطہ کو 16 مئی 2013، جنین کی منی قعدان کو 13 نومبر 2012، جنین کی نوال السعدی کو 05 نومبر 2012، الخلیل کی آیات محفوظ کو 04 فروری 2013، کفر قلیل کی تحریر القنی کو 12 مئی 2013، بیت لحم کی ھبہ بدیر کو 02 اپریل 2013، الخلیل کی نھیل ابو عیشہ کو 14 مارچ 2013 اور طولکرم سے تعلق رکھنے والی دنیا ضرار کو 26 مئی 2013 کو گرفتارکیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
