(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے اریحا شہر میں فلسطینی شہریوں کی 1500 دونم اراضی پرقبضے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ صہیونی فوج اس اراضی کوقبضے میں لینے کے بعد وہاں ایک یہودی کالونی کی تعمیر عمل میں لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے اریحا کی سیکڑوں ایکڑ اراضی پرقبضے کی سازش ایک ایسے وقت میں تیار کی ہے جب انہی دنوں بیت المقدس کے سلوان قصبے کی وسیع اراضی کو بھی یہودی کالونیوں کی توسیع کے لیے استعمال میں لانے کی نئی صہیونی سازش کا انکشاف کیا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا ہے کہ صہیونی حکومت اور فوج مل کر اریحا کی 1500 دونم فلسطینی اراضی پرقبضے کی تیاری کررہی ہے۔ خیال رہے کہ ایک دونم ایک ہزار مربع میٹر کے رقبے کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے۔ دوسرے الفاظ میں صہیونی حکومت 15 سومربع کلو میٹر رقبے پرقبضے کی سازش کررہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اریحا شہر کی پندرہ سو دونم اراضی کو اسرائیل کی ملکیت قرار دینے کی تمام ضروری کاغذی کارروائی مکمل کرلی گئی ہے۔ اس اراضی کو اسرائیلی ریاست کی ملکیت قرار دے کر اس پرقبضے کی سازش تیار کی گئی ہے۔
ادھرایک دوسری پیش رفت میں فلسطین کے بیت المقدس شہرمیں’’العاد‘‘ نامی یہودی توسیع پسندی میں سرگرم 35 یہودی شرپسندوں نے اسرائیلی فوج کی معاونت سے سلوان میں حارہ بیضون کےمقام پر دھاوا بول دیا۔ یہودی آباد کار ان گھروں میں بھی داخل ہوئے جہاں کوئی فلسطینی موجود نہیں تھا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ حارہ بیضون میں دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں کے پاس ایک فلسطینی کثیرالمنزلہ مکان کی چابیاں بھی تھیں۔ ان یہودی شرپسندں کا دعویٰ ہے کہ فلسطینیوں کے کئی مکانات تنظیم کی خریدی گئی اراضی پربنائے گئے ہیں۔ نیزانہوں نے متعدد مکانات فلسطینیوں سے کرائے پربھی حاصل کیے ہیں جب کہ بعض کو فلسطینیوں سے خریدا گیا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی شہریوں نے یہودی آباد کاروں اور ’’العاد‘‘ کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے نہ تو مکان کسی یہودی کو دیے ہیں اور نہ ہی وہ اراضی یہودی آباد کاروں یا اسرائیل کی ملکیت ہے۔
