مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی اسیران کے اہل خانہ پرمشتمل کمیٹی کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اگست کے دوران اسرائیلی فورسز کے فلسطینی شہریوں کے خلاف کریک ڈائون میں اضافہ سامنے آیا۔ گرفتار ہونے والے درجنوں بچوں میں سے بعض کی عمریں 12 سال سے بھی کم بتائی جاتی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 49 فلسطینی شہریوں کو بیت المقدس میں نماز کی ادائی کےلیے آنے پرحراست میں لیا گیا اور ان پر یہودی آباد کاروں کی عبادت میں خلل ڈالنے اور ان کے لیے امن وامان کے مسائل کھڑے کرنے کا الزام عاید کیا گیا۔
اگست میں گھر گھر تلاشی کے دوران 51 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اگست کے مہینے میں بیت المقدس میں فلسطینی شہریوں کی جانب سے 99 مزاحمتی واقعات بھی رونما ہوئے۔ قابض فورسز نے 69 مردوں، 13 خواتین اور 64 کم عمر بچوں کو احتجاج کی پاداش میں حراست میں لے کر جیلوں میں ڈالا۔ گرفتار ہونے والے چار بچوں کی عمریں 14 سال سے بھی کم بتائی جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 45 فلسطینیوں کو پرانے بیت المقدس سے حراست میں لیا گیا۔ 16 افراد کی گرفتاری عیسویہ کے مقام سے کی گئی، 15 کو سلوان، 12 کو اطور، 7 کو شعفاط کیمپ، 8 کو راس العامود، 3 کو وادی الجوز اور 9 شہریوں کو بیت المقدس کے متفرق مقامات سے گرفتار کیا گیا۔
