اسرائیلی پولیس نے فلسطین کے مختلف علاقوں میں غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کا جشن منانے کی پاداش میں کم سے کم 150 فلسطینی شہریوں کو حراست میں لے کران سے تفتیش شروع کردی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حراست میں لیے جانے والے شہریوں کا تعلق سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطین، مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس سے بتایا جاتا ہے۔ محروسین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی سے یہودی کالونیوں پر مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نعرہ تکبیر [اللہ اکبر] کہتے ہوئے اپنے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر خوشی کا اظہار کررہے تھے۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں حالیہ جنگ کے دوران جب مزاحمت کاروں کی طرف سے راکٹ حملے کے خطرے کے پیش نظر خطرے کے سائرن بجائے جائیں تو فلسطینی اپنے گھروں سے نکل کر ان حملوں پر جشن منانا شروع کردیے تھے۔
ادھر اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق حراست میں لیے جانے والے تمام افراد عام محنت کش ہیں جو مغربی کنارے اور بیت المقدس سے مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948ء کے اسرائیلی زیر قبضہ علاقوں میں کام کاج کے لیے آئے تھے۔ ٹی وی رپورٹ میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے اسدود شہر پر راکٹ حملوں کے دوران جشن مناتے دکھایا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
