مسجد اقصٰی کےخلاف صہیونی ریشہ دوانیوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ قابض یہودیوں کی روک تھام کے لیے کوئی موثر اقدامات نہیں ہو رہے ہیں۔
اطلاعات کےمطابق منگل کے روز تھوڑے تھوڑے وقفے کے ساتھ کم سے کم 150 یہودی آباد کار گروپوں کی شکل میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوتے رہے۔ ہرگروپ کے ساتھ یہودی ربی انہیں مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے مختلف طریقوں کے بارے میں بھی آگاہ کرتے۔ مسجد میں غل غپاڑہ کرتے اور مسلمانوں اور فلسطینیوں کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگاروں اورعینی شاہدین کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق منگل کے روز قبلہ اول میں سخت کشیدگی کی فضاء برقرار رہی۔ مسجد میں موجود نمازی حضرات یہودیوں کےناپاک قدم مسجد اقصیٰ میں داخل ہوتے ہی بلند آوازوں میں "نعرہ تکبیر” بلند کرتے، لیکن انتہا پسند یہودیوں کو صہیونی پولیس اور فوج نے اپنے حفاظتی حصار میں لے رکھا تھا اس لیے انہیں فلسطینیوں کے نعروں کی کوئی پرواہ نہیں ہو سکی۔
درایں اثناء قبلہ اول کے تحفظ کی ذمہ دار تنظیم الاقصٰی فاؤنڈیشن و ٹرسٹ نے یہودیوں کی قبلہ اول میں مسلسل مداخلت اور عالم اسلام کی جانب سے اس پرمجرمانہ غفلت دونوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ایک بیان میں فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ یہودی عالم اسلام کی خاموشی کے نتیجے میں قبلہ اول کا تقدس پامال کر رہے ہیں۔ عالم اسلام سے مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے باربار اپیلیں کی جا چکی ہیں لیکن مجال کہ مسلم دنیا نے اس کی ذرا بھی پرواہ کی ہو۔ مسلم دنیا کا یہ رویہ یہودیوں کو قبلہ اول پر یلغار کے لیے حوصلہ فراہم کر رہا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
