• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

بیت المقدس میں 150 اسلامی تاریخی مقامات یہودیانے کی سازش

اتوار 07-07-2013
in فلسطین
0
plf 7 cha
0
SHARES
1
VIEWS

فلسطین میں اسلامی ثقافتی ورثے سے متعلق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صہیونی حکومت بیت المقدس شہرکے ڈیڑھ سو سے زائد اسلامی تاریخی مقامات کو "یہودیانے” کی سازشیں کرتے ہوئے انہیں یہودی آثارقدیمہ کا حصہ قرار دینے کے لیے کوشاں ہے۔

 

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ماہرین نے یہ تنبیہ مقبوضہ بیت المقدس میں منعقدہ ایک عظیم الشان کانفرنس کے دوران کی۔ کانفرنس میں فلسطین بھر سے علماء، مبلغین اور تاریخی واسلامی آثار قدیمہ کے ماہرین نے بھی خطابات کیے۔

کانفرنس کے اختتام پرجاری اعلامیے میں کہا گیا کہ بیت المقدس شہرمیں مسلمانوں کے ڈیڑھ سو سے زائد تاریخی مقامات کو یہودیوں کے ہاتھوں سنگین خطرات لاحق ہیں۔ اسرائیلی حکومت اورانتہا پسند یہودی تنظیمیں ان ڈیڑھ سو سے زائد اسلامی ثقافتی مراکز پرنظریں مرکوز کیے ہوئے ہیں اور انہیں ہرصورت میں یہودیت میں تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ صہیونی حکومت مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو یہودیانے کے لیے کئی طریقے استعمال کر رہی ہے۔ شہرمیں قدیم تاریخی اسلامی مقامات کے عربی ناموں کو ختم کرکے ان کی جگہ عبرانی نام متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ صہیونی حکومت اب تک مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں مسجد ابراہیمی، بیت لحم میں مسجد بلال بن رباح اور حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار کی تمام بیرونی عربی عبارات کو مٹا کر ان کی جگہ عبرانی کی عبارتیں لکھ دی ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ تاریخی مقامات یہودیوں کی تاریخی مذہبی ثقافت کا حصہ ہیں۔

چونکہ بیت المقدس صدیوں سےمسلمان تہذیب و ثقافت کا گہوارہ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس میں قدیم اقوام کے کھنڈرات اور ان کی باقیات کے آثار بھی موجود ہیں۔ ان میں بعض آثار قدیمہ زیرزمین ہیں اورکچھ سطح زمین پرہیں۔ زیرزمین آثار کی کھدائی اور ان کی تلاش کے لیے اسرائیل نے سنہ 1967ء کے بعد سے اب تک منظم مہم شروع کر رکھی ہے۔ جہاں کہیں کسی تاریخی مقام کی نشاندہی ہوتی ہے تو صہیونی حکومت فوری طور پراس کا کوئی عبرانی جعلی نام رکھ کر اس پر”یہودیت کا لیبل” لگا دیتی ہےاور اس کی اسلامی شناخت کو وہیں دبا دیا جاتا ہے۔

کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلیوں کے ناپاک قدم اس وقت تیزی کے ساتھ مسلمانوں کے قبلہ اول کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ صہیونی بیت المقدس کی تمام مساجد اوردیگر مقدس مقامات کو اپنا اصل ہدف بنائے ہوئے ہیں جن میں مسجد اقصیٰ بھی ایک بڑا ہدف ہے۔ یہیں پر صہیونیوں کے مذعوم دعوے کے مطابق تیسرے ہیکل سلیمانی کی بنیاد رکھنا ہے۔ ان دنوں اسرائیلی انتہا پسندوں کے علاوہ صہیونی حکومت، فوج، انٹیلی جنس ادارے، سیاسی جماعتیں اور تمام صہیونی ادارے مل کر مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔

کانفرنس میں شریک علماء نے عالم اسلام اورعرب اقوام سے مطالبہ کیا کہ وہ بیت المقدس کو یہودی رنگ میں رنگنے سے بچانے کے لیے ٹھوس فیصلے کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مُسلم امہ اسی طرح غفلت کی نیند سوتی رہی تو صہیونیت کا پھنکارتا ہوا سانپ بیت المقدس اور اس کے تمام اسلامی آثار کو نگل سکتا ہے۔

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.