فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی ریاست کی جیلوں میں زیرحراست فلسطینی صحافیوں کی تعداد 15 ہوگئی ہے اور وہ مسلسل بدستور حراست میں ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم "احرار” برائے انسانی حقوق کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی جیلوں میں زیرحراست فلسطینی صحافیوں میں بعض کو انتظامی قید میں رکھا گیا ہے۔ کچھ کے خلاف مقدمات چلائے جا رہے ہیں جبکہ بعض کو مقدمات کے بعد سزائیں بھی دی جا چکی ہیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ قید بیت المقدس کے صحافی محمود عیسٰی نے کاٹی ہے جو سنہ 1993ء کے بعد سے اب تک مسلسل اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل ہے اور اسے فلسطینیوں پر صہیونی فوج کے مظالم بے نقاب کرنے کی پاداش میں عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔
بیان میں صحافیوں اور اخباری نمائندوں کو گرفتار کر کے طویل مدت تک جیلوں میں ڈالے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی قید خانوں میں بند صحافیوں کی رہائی کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں صحافیوں کی گرفتاری اور طویل عرصے سے جاری نظربندی سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ اسرائیل حق کی آواز کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال کا مظاہرہ کررہا ہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی پولیس نے تین صحافیوں کو رواں سال گرفتار کیا۔ تینوں ھمام عتیلی، عزیز کائد اور صحافیہ بشری الطویل جامعہ النجاح نیشنل یونیورسٹی کے طالب بھی ہیں۔ صہیونی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے دوران کئی صحافی جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ گذشتہ برس صہیونی فوج کی بربریت کی کوریج کرتے ہوئے آٹھ صحافی شہید ہوئے۔ شہداء میں محمد انور منا، بکر عتیلی، عنان عجاوی، احمد العاروری، نضال ابو عکر، عمار اسعد، ثامر سباعنہ اور ولید خالد شامل ہیں۔
