انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت اسرائیلی جیلوں میں پانچ ہزار سے زائد فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ ان اسیران میں سے چودہ سو سے زائد افراد مختلف امراض میں مبتلا ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے علاج کی سہولیات نہ ملنے پر ان مریضوں کی حالت مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ’’اسیران کے مددگار‘‘ نے ہفتے کے روز جاری اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ صہیونی انتظامیہ کی جانب سے جیلوں میں فلسطینی مریض اسیران انتہائی کس مپرسی کی حالت میں ہیں۔ علاج سے مجرمانہ غفلت برتے جانے پر یہ مریض موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
’’اسیران کے مددگار‘‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے بہت سے مریض اسیران کی حالت انتہائی نازک ہوگئی ہے اگر ان کے لیے فوری طور پر متحرک نہ ہوا گیا تو بڑا انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ تنظیم نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مریض اسیران کے علاج معالجے کے لیے اسرائیل پر دباؤ بڑھائیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ رملہ جیل میں مریضوں کے لیے الگ یونٹ قائم ہے جس میں موجود اسیران کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
