مشرق وسطیٰ میں سردی کی تازہ لہرنے فلسطینی علاقوں کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے اور دوسرے شہروں میں 1878 ء کے بعد پہلی مرتبہ اس قدر شدید برف باری ہوئی ہے جس کے نتیجے میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
فلسطین میں موسم کے تغیرات کے مستند نیوز ویب پورٹل "فلسطین موسم” کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ برف باری غیر متوقع اور غیر یقینی تھی۔ موسمی تبدیلیوں کے باوجود اس قدر سخت برف باری کا امکان نہیں تھا لیکن حالیہ برف باری نے اپنے 140 سال کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارا، بیت المقدس اور فلسطین کے دوسرے علاقوں برف باری کے نتیجے میں درجہ حرارت میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ بعض مقامات پر درجہ حرارت تین اور چار درجے سینٹی گریڈ تک کرچکا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برف باری اور مسلسل بارش کے باعث مغربی کنارے کے شہریوں کو سنگین نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قلت بڑھتی جا رہی ہے۔ انسانوں کے ساتھ حیوانی زندگی بھی متاثر ہوئی ہے۔ کھیتوں میں زیرکاشت فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ بین الاضلاع ٹرانسپورٹ معطل اور مواصلاتی رابطے منقطع ہوچکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق الخلیل، رام اللہ، نابلس اور دوسرے شہروں میں کچے مکانات اور خیمہ بسیتوں میں پناہ گزینوں کے خیموں میں پانی داخل ہونے سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
خیال رہے کہ دسمبر 1878 ء کو فلسطینی علاقوں میں”یالو” برفانی طوفان کے باعث بیت المقدس میں 43 سینٹی میٹر برف ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم مغربی کنارے کے بالائی شہروں الخلیل اور نابلس کے میں برف کا کوئی حتمی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
