انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطین کے قانونی اداروں نے بیت المقدس کے ہزاروں باشندوں کی القدس کی شہریت منسوخ کیے جانے سے متعلق اسرائیلی سازشوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کی شہریت بچانے کی مساعی تیز کردی ہیں۔
انسانی حقوق کے گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ سنہ 2015ء سے اسرائیل بیت المقدس میں شہریوں کی شناخت کی ایک نئی پالیسی متعارف کرا رہا ہے جس کے نتیجے میں مشرقی بیت المقدس میں ہزاروں فلسطینی اپنی بیت المقدس کی شناخت اور تشخص سے محروم ہوسکتے ہیں۔ جبکہ سنہ 1967ء کی جنگ کے بعد اب تک بیت المقدس کے 14 ہزار باشندوں کی شہریت منسوخ کی جا چکی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مرکز فلسطین برائے انسانی حقوق کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں اسرائیلی وزارت داخلہ نے پچھلے دو سال کے دوران بیت المقدس کی شہریت منسوخ کیے گئے فلسطینیوں کی ایک فہرست جاری کی ہے لیکن فہرست اصل تعداد کا نصف ہے۔ گویا اسرائیل نے جتنے لوگوں کی تعداد بتائی ہے اس سے دوگنا باشندوں کی القدس کی شہریت منسوخ کی جا چکی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں کے خلاف ظالمانہ اقدامات، دیوار فاصل کی جا بجا تعمیر، ابو دیس، العیزریہ اوعر بیرنیالا میں فلسطینیوں کی تاریخی عمارات پر قبضہ القدس کے فلسطینی باشندوں کو وہاں کی شہریت سے محروم کرنے سے کھلی اور گھناؤنی سازش ہیں۔
ادھر دوسری جانب اسرائیلی وزارت داخلہ نے القدس کی شہریت سے محروم کردہ فلسطینی باشندوں کی ایک فہرست ایک حقوق انسانی کے ادارے کے حوالے کی ہے۔ فہرست میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران 106 فلسطینی کی القدس کی شہریت منسوخ کی گئی۔ جن میں سے 35 کی شہریت بعد ازاں بحال کردی گئی تھی، جبکہ سنہ 1967ء کی جنگ کے بعد سے اب تک 14 ہزار فلسطینی باشندوں کی القدس کی شہریت کالعدم قراردی گئی۔
اسرائیل کے ادارہ برائے انسانی حقوق "بتسلیم” کی رپورٹ کے مطابق بیت المقدس کی مشرقی اور مغربی سمتوں میں اسرائیل یہودی آبادی کی تعداد میں مسلسل اضافے میں مصروف ہے۔ اسرائیل کی اس پالیسی کا مقصد فلسطینی اورعرب آبادی کو اقلیت اور یہودیوں کو اکثریت میں بدلنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بیت المقدس میں یہودیوں کی تعداد بتدریج بڑھ اور شہر کے اصلی باشندوں کی کم سے کم ہو رہی ہے۔ سنہ 2010ء کے اختتام تک بیت المقدس میں کل آبادی 788.052 تھی۔ جن میں 63.9 فی صد یہودی جن کی تعداد 504.179 تھی جبکہ فلسطینیوں کی تعداد 36 فی صد یعنی 283.873 تھی۔ بیت المقدس کی 56.6 فی صد آبادی ان علاقوں پر مشتمل ہے جسے اسرائیل پہلے ہی صہیونی ریاست میں ضم کرچکا ہے۔ اس مجموعی آبادی میں 39.3 فی صد یہودی جبکہ 60.7 فی صد فلسطینی باشندے شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
