اسرائیل میں فوج سے فراراختیار کرنے کی سخت ترین سزاؤں کے باوجود فوجی خدمات سے فرار کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ فوج سے فرار روکنے کے لیے سنہ 2012ء کے بعد سے اب تک کم سے کم چودہ ہزار فوجیوں کو سزائیں دی گئی ہیں۔ مفرور فوجیوں کو زیادہ ترقید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
اسرائیلی کنیسٹ کے زیرانتظام”ریسرچ اینڈ انفارمیشن سینٹر” کی رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک سال کے دوران چودہ ہزارخاتون اور مرد فوجی اہلکاروں نے فرار کی کوشش کی جنہیں گرفتار کیے جانے کے بعد جیلوں میں بھیجا گیا ہے۔ سزا پانے والے بیشتراہلکار یا تو فوج سے فرار ہوچکے تھے یا فوج میں رہتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں غفلت کا مظاہرہ کر رہے تھے۔
رپورٹ میں فوجیوں کے فرار کے اسباب بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ملک کو درپیش امن وامان کی خراب صورت حال اور سیاسی خلفشار فوجیوں کے فرار کا سب سے بڑے اسباب ہیں۔ اس کے علاوہ فلسطینی علاقوں میں مزاحمت کاروں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا خوف بھی فوجیوں کےفرار کا ایک اہم سبب ہے۔
سیاسی اور عسکری تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ فوج کے ادارے میں سماجی اور اقتصادی حوالے سے ایک بڑی خلیج حائل ہے۔ اس سیاسی اور سماجی بگاڑ نے فوج میں انتشار اور نفسیاتی مسائل پیدا کیے ہیں۔ پیش آئند برسوں میں فوج سے فرار کے رحجان میں مزید اضافہ دیکھا جاسکتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
