اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہرالخلیل میں جنوب مشرقی یطا کے علاقے میں کم سے کم 1370 ایکڑ اراضی خالی کرنے کے دوبارہ نوٹسز جاری کیے ہیں۔
یطا میں کعابنہ کے مقام پر فلسطینیوں کی ملکیتی اراضی کو یہودیوں کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے زمینوں پرقبضے کے نوٹس پہلے بھی جاری ہوچکےہیں تاہم شہریوں نے تاحال زمینیں خالی نہیں کی ہیں۔
الخلیل کے سماجی رہ نما راتب الجبور نے "مرکزاطلاعات فلسطین” کو بتایا کہ اتوارکو صہیونی فوجیوں نے جنوب مشرقی یطا کے قصبوں الھذالین اور کعابنہ کی اراضی پر قبضے کی غرض سے فلسطینیوں کو اراضی خالی کرنے کے دوبارہ نوٹس دیے ہیں۔ اس موقع پر یہودی سول انتظامیہ اور پولیس کی بڑی نفری بھی موجود تھی۔ نوٹسز میں فلسطینیوں سے کہا گیا ہے کہ بار دگر مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ مذکورہ اراضی میں کسی قسم کا کام نہ کریں بلکہ جہاں کہیں انہوں نے تعمیرات کررکھی ہیں وہ ختم کی جائیں کیونکہ فوج ان زمینوں کو قبضے میں لانا چاہتی ہے۔
راتب الجبورنے بتایا کہ جنوب مشرقی یطا میں فلسطینیوں کی اراضی پرغاصبانہ قبضے کا آغاز نیا نہیں بلکہ آج سے سات سال قبل صہیونی حکام نے علاقے می اراضی ہتھیانے کی کوشش کی تھی، جس مقامی فلسطینی شہریوں کی بڑی تعداد نے اسرائیلی عدالت میں دعویٰ دائر کرکے زمینوں پر قبضہ عارضی طور پر رکوا دیا تھا۔
درایں اثناء الخلیل میں جامع مسجد ابراہیم خلیل اللہ کے قریب اسرائیلی فوجیوں نے ایک فوجی چوکی سے متعدد فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ قابض فوج نے مسجد ابراہیمی کے قریب لگائے گئے ایک ناکے پر شہریوں کی تلاشی کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ تلاشی کی کارروائیوں میں مسجد میں نماز کے لیے آنے والے متعدد نوجوانوں کو پکڑنے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
