رپورٹ کے مطابق ’’مرکز العدالہ‘‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کے علاقوں میں آنے والےڈیڑھ سو کے قریب شہروں اور قصبوں میں رہنے والے فلسطینی اسرائیلی مظالم کے باعث سنگین مشکلات سے دوچار ہیں۔ اسرائیلی حکومتیں ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت نسل پرستانہ پالیسیوں پرعمل پیرا ہے اور مقامی فلسطینی آبادی کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی گئی ہے۔
مرکزالعدالہ کے زیراہتمام یہ رپورٹ ’یوم الارض‘ کے موقع پر جاری کی گئی جسے فلسطینی قانون دان محمد بسام نے تیار کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اسرائیلی حکومتیں سنپ 1948 ء کے مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے فلسطینی شہریوں کو جان بوجھ کر پریشان کررہی ہیں۔ صہیونی حکومتوں کی نسل پرستانہ پالیسیوں کے نتیجے میں سنہ 1948 ء کی جنگ میں صہیونی ریاست کے قبضے میں چلے گئے علاقوں کی 91 فی صد آبادی کو رہائش، روزگار، کاروبار، زراعت اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 1948 ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے قصبوں اور شہروں میں قائم کردہ اسرائیلی کالونیوں میں یہودیوں کو ہرطرح کی مراعات مہیا کی جا رہی ہیں مگر ان کالونیوں کے درمیان واقع فلسطینی بستیوں کے مکینوں کو زندگی کے بنیادی حقوق بھی میسر نہیں ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ برس اسرائیلی حکومت نے ان فلسطینی شہروں اور قصبوں میں صرف 4.6 فی صد ترقی فنڈز خرچ کیے۔ جب کہ فلسطینی شہروں میں یہودی آبادکاروں کے لیے مزید 38 ہزار 95 مکانات کے لیے سرمایہ کاری کی گئی۔ یوں یہودیوں کے لیے مکانات کی تعمیر کے لیے سرمایہ کاری فلسطینی آبادی کی بہبود کے لیے سرمایہ کاری کی نسبت نہایت کم ہے۔ صہیونی حکومت کی طرف سے ایک سال میں 1835 مکانات کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں رہنے والے فلسطینیوں کو نسل اور قومیت کی بنیاد پر سرکاری طرز عمل کا سامنا ہے۔ فلسطینیوں کے لیے اگر 20 فی صد بجٹ مختص کیا جاتا ہے تو دوسری جانب صہیونیوں کو 70 فی صد بجٹ مہیا کیا جاتا ہے۔
اسرائیلی حکومت کی ترجیحات میں مقبوضہ فلسطین کی کل 558 بستیوں میں صرف 30 بستیاں شامل ہیں جو کہ کل فلسطینی قصبوں کا صرف 5 فی صد ہیں۔ سنہ 2015 ء کے دوران صہیونی حکومت کی طرف سے صرف اعشاریہ آٹھ فی صد فلسطینی بستیوں کے لیے اضافی بجٹ رکھا گیا۔ یوں فلسطین کے 363 قصبوں میں سے صرف 3 قصبوں میں جزوی طورپر ترقیاتی کام کئے گئے۔
