مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ یہودی آباد کاروں نے الخلیل میں فلسطینی شہریوں کی املاک، باغات اور دیگر جائیدادوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ پچھلے مہینے میں الخلیل میں 1350 پھل دارپودے تلف کردیے گئے۔ ان میں بیشتر زیتون کے پودے شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی حکام کی جانب سے الخلیل شہر میں نہتے شہریوں کی اندھا دھند گرفتاریوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری رہا۔ اس دوران قابض فوجیوں نے الخلیل سے 90 فلسطینیوں کو حراست میں لینے کے بعد جیلوں میں ڈالا۔
رپورٹ کے مطابق صہیونی فوجیوں، پولیس اور انٹیلی جنس کے اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ روز مرہ کی بنیاد پر جاری رہا۔ الخلیل میں ہونے والےاحتجاجی مظاہروں کو کچلنے کے لیے قابض فوج نے طاقت کا وحشیانہ استعمال بھی جاری رکھا جس کے نتیجے میں دسیوں افراد زخمی بھی ہوئے۔
پچھلے مہینےاسرائیل میں کنیسٹ کے انتخابات کے سے قبل اسرائیل کی انتہا پسند سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہ نمائوں کی الخلیل میں اشتعال انگیز آمد کا سلسلہ بھی اپنے عروج پر رہا۔ ان میں سرفہرست اسرائیلی وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبرمین ہیں جن کی آمد سے فلسطینیوں کے لیے الخلیل میں مسجد ابراہیمی بند کردی گئی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
