فلسطینیوں پر اس قیمت کو بیتے اب سات عشرے ہونے کو ہیں اور فلسطینیوں کی اب تیسری نسل جوان ہو رہی ہے۔ وقت گذرنے کے باوجود فلسطینیوں کو لگنے والے ظلم کے اس گہرے گھائو کو بھرانہیں جاسکا ہے اور شاید یہ کبھی بھرا بھی نہیں جائے گا۔
سنہ 1950 ء اور 1960 ء کے عشروں کے دوران جہاں ایک طرف فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا سلسلہ جاری رہاں وہیں فلسطینیوں نے بھی کسی بے معنی سیاسی تحریک کے بجائے مسلح جدو جہد کا آغاز کیا۔ اس تحریک کے اہم ترین مطالبات میں ’’حق واپسی‘‘ کا مطالبہ سر فہرست رہا۔ فلسطینی قوم ایک بارپھراپنے وطن میں آبا ہونے کے خواب کے ساتھ مسلح جدو جہد کو اپنے خون سے سینچنے لگے۔
تاہم سنہ 1988 ء میں فلسطینی مملکت کے لیے سیاسی سطح پربھی کوششیں شروع ہوئیں جس کے نتیجے میں 1993 ء میں ایک نام نہاد فلسطینی اتھارٹی کے قیام کا ڈرامہ رچایا گیا اور اسے ’’معاہدہ اوسلو‘‘ کا نام دیا گیا۔ وقت کے دھارے نے یہ ثابت کیا کہ اوسلو معاہدہ فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی بازیابی کے حوالے سے کسی پیش رفت کے بجائے الٹا فلسطینی قوم کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہوا۔ اس معاہدے کے بعد فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کےدرمیان میراتھن مذاکرات کا ایک غیر سود مند سلسلہ شروع ہوا جو سنہ 2014 ء میں اپنی تمام ترناکامیوں کو ساتھ لیے بری طرح پٹ گیا۔
مذاکراتی عمل کے تعطل کا شکار ہونے کے بعد فلسطینی اتھارٹی نے خود مختار فلسطینی مملکت کے قیام کے لیے سلامتی کونسل سے رجوع کیا۔ سلامتی کونسل میں حسب معمول امریکا نے فلسطینی ریاست کی قرار داد اسرائیل حق میں ویٹو کردی۔ اگلے مرحلے میں فلسطینی اتھارٹی نے عالمی برادری میں آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک مہم چلائی جس کے تحت فلسطینی ریاست کو ممالک، حکومتوں اور پارلیمان کی سطح پر تسلیم کیا جانے لگا۔
فلسطینی اتھارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ پچھلے سال اپنی سفارتی مہم کے دوران 135 ممالک اور 08 ملکوں کی پارلیمان سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرا چکی ہے۔ اگرچہ یہ قبولیت محض ’علامتی‘ ہے۔
135 ممالک
فلسطینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اب تک 135 ممالک اور آٹھ پارلیمان فلسطینی ریاست کو تسلیم کرچکے ہیں۔ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والوں میں یورپی یونین کے کئی ممبر ممالک بھی شامل ہیں،
پچھلے سال اکتوبر میں یورپی یونین کے ممبر ملک سویڈن نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا۔ سویڈن مغربی یورپ کا پہلا ملک ہے جس نے فلسطینی ریاست کوتسلیم کیا۔ اس سے قبل یورپی یونین میں شامل ممالک میں جمہوریہ چیک، مجر، پولینڈ، بلغاریا، رومانیا، مالٹا اور قبرص بھی فلسطینی مملکت کو تسلیم کرچکے ہیں۔
دنیا کے 193 آزاد ممالک میں سے 135 کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا نہایت اہمیت کا حامل ہے، جس نےپوری دنیا کو فلسطینیوں کی آزادی کے بنیادی حق کے حوالے سے بیدار کیا اور اس کے بہت مثبت نتائج سامنے آئے۔
علامتی طورپر تسلیم کرنے والے ملکوں میں برطانوی دارالعوام بھی شامل ہے جس نے 13 اکتوبر 2014 ء کو فلسطینی ریاست کی حمایت میں ایک قرارداد کثرت رائے سے منظور کی تھی۔
پچھلے سال دسمبر میں فرانسیسی پارلیمنٹ نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا اور حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ بھی فلسطینی مملکت کو تسلیم کرے۔
پچھلے سال 11 دسمبر کو آئرلینڈ کی پارلیمنٹ نے بھی فلسطینی مملکت کو تسلیم کرلیا۔ اس سے قبل پرتگال نے بھی فلسطینی اتھارٹی کی حمایت کردی تھی۔ 17 دسمبر 2014 ء کو یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے بھی کثرت رائے سے فلسطینی ریاست کی حمایت کی تھی۔ پارلیمنٹ میں 498 ارکان نے فلسطینی ریاست کی حمایت کی۔ 88 نے مخالفت جبکہ 111 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
رواں سال 05 فروی کو بیلجیم کی پارلیمنٹ نے بھی فلسطینی ریاست کی حمایت کردی تھی۔ اسی ماہ یعنی 27 فروری کو اطالوی پارلیمنٹ نے بھی فلسطینیریاست کی حمایت میں ایک قرارداد منظورکی تھی۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی 2012 ء میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرچکی ہے جس کے بعد اقوام متحدہ میں فلسطین کو ایک مبصر رکن کا درجہ دیا گیا ہے تاہم یورپی یونین کے بیشتر ممالک ابھی تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرسکے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
