فلسطین میں انسانی حقوق اور شہری فلاح وبہبود کے لیے کام کرنے والی 133 فلاحی تنظیموں،سماجی اداروں اور این جی اوز نے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امریکی سرپرستی میں ہونے والے امن مذاکرات کی مخالفت کی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ، مغربی کنارے اور فلسطین کے دیگر شہروں میں سرگرم این جی اوز نیٹ ورک نے اپنے ایک بیان میں رام اللہ اتھارٹی کے اسرائیل سے امن مذاکرات کی بحالی کے فیصلے کوکڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی تجاویز پر صدر محمود عباس کا صہیونی دشمن سے مذاکرات کا فیصلہ قومی امنگوں اور مطالبات کےخلاف ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل سے راست مذاکرات میں کئی خطرات پوشیدہ ہیں۔ ان مذاکرات کا سب سے بڑا نقصان فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اسرائیل کا سنہ 1967ء کے علاقوں پر قبضہ جائز تسلیم کرنے کی شکل میں ہوسکتا ہے۔ یہ خدشہ موجود ہے کہ رام اللہ انتظامیہ یک طرفہ طورپر مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے پر اسرائیل کا قبضہ قانونی قرار دے سکتی ہے۔ اسرائیل کو دی جانے والی اس پیشکش کے بعد صہیونی دشمن کی جیلوں سے کچھ فلسطینیوں کی رہائی اور بعض علاقوں میں یہودی آباد کاری روکے جانے کا امکان ہے لیکن اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کی تمام شرائط تسلیم نہیں کرے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو یہ خدشہ ہے کہ فلسطین میں جنگی جرائم کے ارتکاب پراس کی عسکری اور سیاسی قیادت کوعالمی عدالت انصاف میں مطلوب قرار دے کران کےخلاف کارروائی نہ شروع کر دی جائے۔
عالمی عدالت انصاف کے کٹہرے سے بچنے کے لیے اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کو ایک موثر ہتھیار کے طورپر استعمال کرسکتا ہے اور ڈر یہ ہے کہ رام اللہ اتھارٹی اسرائیلی دشمنوں کوعالمی عدالت انصاف میں لے جانے سے بچا سکتی ہے۔
فلسطین میں سماجی تنظیموں کے نیٹ ورک نے واضح کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل جن خطوط پر فلسطینیوں سے بات چیت کر رہے ہیں، انہی خطوط پر ماضی میں بھی مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔ مذاکرات کا سب سے اہم نقطہ اسرائیلی دہشت گردی کا خاتمہ، فلسطین کی مکمل آزادی، لاکھوں جلا وطن شہریوں کی دوبارہ آباد کاری اور صہیونی جیلوں میں پابند سلاسل ہزاروں بے گناہوں کی رہائی ہونا چاہیے لیکن ان میں سے کوئٰی شرط بھی مذاکرات کا حصہ نہیں ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان تین سال کے تعطل کے بعد امریکا میں دوبارہ مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔ ان مذاکرات کے نتائج کیا برآمد ہوں گے اس پر تبصرہ قبل از وقت ہے لیکن فلسطین میں الفتح کے علاوہ کوئی بھی دوسری سیاسی، مذہبی یا سماجی تنظیم ان مذاکرات کی حامی نہیں ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
