رپورٹ کے مطابق فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے اسیران اسٹڈی سینٹر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری میں اسرائیلی فوج نے 490 فلسطینی شہریوں کو جیلوں میں ڈالا۔
رپورٹ کے مطابق اسیراب میں 140 بچے، 3 خواتین، ایک سابق فلسطینی وزیر اور دو فلسطینی رکن پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔
صہیونی فوج کی کارروائیوں میں جہاں بڑی تعداد میں مغربی کنارے کے شہریوں کو حراست میں لیا گیا وہیں بیت المقدس اور غزہ کی پٹی سے بھی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ غزہ کی پٹی سے 10 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا جن میں پانچ ماہی گیر شامل ہیں۔
جنوری میں صہیونی فوج کے مظالم کے خلاف اسیر صحافی محمد القیق نے اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھی اور اب اس کی حالت نہایت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔
انسانی حقوق کے مندوب ریاض الاشقرنے بتایا کہ جنوری میں صہیونی فوجیوں نےدو مزید فلسطینی ارکان پارلیمنٹ کو حراست میں لیا جس کے بعد صہیونی دشمن کی جیلوں میں قید فلسطینی ارکان پارلیمنٹ کی تعداد 7 ہوگئی ہے۔
جنوری میں مجموعی طورپر صہیونی عدالتوں سے فلسطینی قیدیوں کو 117 انتظامی قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ان میں 54 نئے فلسطینیوں کو انتظامی قید کی سزائیں سنائی گئیں جب کہ 63 قیدیوں کی سزا میں تجدید کی گئی۔
