فلسطین کی مساجد میں اذان کی آواز پر قابض یہودیوں کوہمیشہ تکلیف رہی ہے اور وہ اذان پر پابندیاں لگانے کی بھی کوششیں کرتے رہے ہیں مگر پہلی مرتبہ یہ انکشاف ہوا ہے کہ طولکرم شہر کی 123 مساجد میں ایک ہی وقت میں اذان پر فلسطینی انتظامیہ نے پابندی لگا رکھی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ غرب اردن کے شمالی شہر طولکرم میں فلسطینی آبادی ایک لاکھ 56 ہزار سے زیادہ ہے۔ شہر میں مجموعی طور پر 173 بڑی مساجد ہیں۔ ان میں سے 123 مساجد فلسطینی محکمہ اوقاف کے زیرانتظام ہیں جن کی نماز اور اذان کے ایک ہی اوقات ہیں۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک ماہ پہلے تک شہر میں نمازوں کے لیے تمام مساجد سے ایک ساتھ اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوتی تھیں لیکن ایک ماہ سے نہ صرف اذانوں کی اوقات بدل دیے گئے ہیں بلکہ کئی مساجد میں سرے سے لاوڈ اسپیکروں پر اذان دینے پر پاپندی عاید کی گئی ہے۔
پہلے پہلے عام شہریوں کو یہ بتایا گیا کہ تھاکہ انتظامیہ مساجد کی تعمیرو مرمت اور دیگر حفاظتی کاموں کی وجہ سے عارضی طور پر اذان کے اوقات تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ کئی مساجد میں لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی عاید کررہی ہے۔
گذشتہ روز طولکرم میں فلسطینی محکمہ اوقاف کے ڈائریکٹر عدنان سعید نے بتایا کہ انہیں اعلیٰ حکام کی جانب سے تین ہفتے قبل بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج کی درخواست پر مساجد میں اجتماعی اذان پر پابندی لگانے کا فیصلی کیا گیا کیونکہ ایک ساتھ تمام مساجد سے اذان کی آواز سے اسرائیلی فوج کے کسی سیکیورٹی سسٹم میں کوئی خلل واقع ہو رہا ہے۔ تاہم یہ فنی خرابی دور ہوتے ہی دوبارہ تمام مساجد میں ایک ساتھ اذان شروع کر دی جائے گی۔
عدنان سعید نے یہ وضاحت نہیں کی کہ آیا اسرائیلی فوج کا کونسا نظام متاثر ہو رہا ہے تاہم انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کو کچھ متبادل آلات بھی فراہم کیے گئے تھے جن کی مدد سے اذان کی وجہ سے ان کے مواصلاتی نظام میں پیدا ہونے والی خامی کو روکنے میں مدد مل سکتی تھی تاہم اس کے باوجود مساجد میں ایک ساتھ اذان دینے پراب بھی پابندی عاید ہے۔
فلسطین رکن اسمبلی اور مجلس قانون ساز کے ڈپٹی اسپیکر حسن خریشہ کا کہنا ہے کہ طولکرم میں تمام مساجد میں ایک ساتھ اذان فلسطینیوں کے معمولات زندگی کا حصہ بن چکی تھی، اس پر پابندی شعائر اسلام پر پابندی کے مترادف ہے۔
ایک انٹرویو میں حسن خریشہ کا کہنا تھا کہ اگر فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے یہ پابندی لگائی گئی ہے تو یہ صہیونی فوج کے سامنے ایک نہایت خوفناک پسپائی کے مترادف ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کو اپنے اس اقدام کے سنگین نتائج کا اندازہ نہیں۔ یہ پابندی ایک ایسے وقت میں لگائی گئی جب اسرائیلی کنیسٹ میں فلسطین بھر کی مساجد میں اذان پر مستقل پابندی لگانے کے لیے بحث جاری رہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
