اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی توسیع اور بارسو تیرہ نئے مکانات کی تعمیرکے لیے ٹینڈر طلب کیے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کی یہودی بستیوں کےخلاف سرگرم انسانی حقوق کی تنظیم’’Now Peace‘‘ کی رپورٹ کے مطابق صہیونی وزارت تعمیرات نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی ’’بسیگات زئیف‘‘ میں 607 ،’’رموت‘‘ میں میں 606 جبکہ مغربی کنارے میں آرئیل یہودی کالونی میں 72 مکانات کی تعمیر کے لیے ٹینڈر طلب کیے ہیں۔
یہودی انسانی حقوق کی تنظیم کے عہدیدار ھاگیٹ اوفران نے بتایا کہ یہودی بستیوں میں نئے مکانات کی تعمیر وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کا صدر محمود عباس کے اقدامات کا عملی جواب ہے۔ کیونکہ صدر محمودعباس نے کہا ہے کہ وہ متنازعہ یہودی بستیوں کی تعمیر کےخلاف ہیں اورانہیں دو ریاستی حل میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ اس کے رد عمل میں صہیونی وزیراعظم نے بارہ سو سے زائد نئے مکانات کی تعمیر کرکے اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
یہودی تنظیم نے غیرقانونی طورپر فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں میں توسیع کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیرو توسیع کے ذریعے امن بات چیت کے لیے مشکلات کھڑی کررہا ہے۔
