مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی املاک پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ صہیونی آباد کاروں کے ایک جتھے نے بیت لحم میں فلسطینیوں کے ایک سو سے زائد زیتون کے درخت اکھاڑ پھینکے ہیں۔
ادھر القدس میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد فلسطینی زخمی ہوگئے۔ بیت لحم کے الخضر ٹاؤن میں درختوں کے ساتھ ساتھ متعدد پانی کے کنویں بھی منہدم کردیے گئے ۔
الخضر ٹاؤن میں یہودی بستیوں اور نسلی دیوار مخالف کمیٹی کے ڈائریکٹر احمد صلاح نے خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ کو بتایا ہے کہ یہودی آباد کاروں نے فلسطینی زمین دار عبد الحکیم صلاح کے ایک سو سے زائد زیتون کے درختوں کو اکھاڑ ڈالا۔ ان درختوں کو ایک خیراتی تنظیم کے تعاون سے دو سال قبل لگایا گیا تھا۔ یہودی آباد کاروں نے یونس حسنی نامی شہری کے زیر ملکیت بیس انگور کے درخت بھی اکھاڑ پھینکے ہیں۔
دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس میں گزشتہ روز کی خوفناک جھڑپوں کے بعد آج پھر یہودی آباد کاروں کی اشتعال انگیزی کے بعد جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ القدس کے علاقے راس العامود میں ایک اسرائیلی پولیس نے علاقے کی ایک کراسنگ کو بند کردیا، ادھر ایک یہودی آباد کاروں نے اہالیان القدس کو ڈرانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی جس کی وجہ سے علاقے میں اشتعال پھیل گیا۔ اور مسجد اقصی کی جنوبی سلوان کالونی سمیت متعدد علاقوں میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔
’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے نمائندے نے بتایا کہ اس موقع پر اسرائیلی فوجی اہلکاروں نے فلسطینیوں کی جانب زہریلی گیس کے شیلوں اور صوتی بموں کی بوچھاڑ کردی جس سے متعدد فلسطینی دم گھٹنے کی وجہ سے شدید تکلیف میں مبتلا رہے اور کئی زخمی ہوگئے۔
ہمارے نمائندے نے بتایا کہ القدس کی تمام کالونیوں میں اسرائیلی پولیس اور فوج کے اہلکاروں کی بڑی تعداد گشت کر رہی ہے جس کی وجہ سے یہاں پر حالات سخت کشیدہ ہیں اور کسی بھی وقت مزید جھڑپیں شروع ہو سکتی ہیں۔
ہمارے نمائندے نے بتایا کہ عرب لبادے میں ملبوس اسرائیلی پولیس کے اہلکاروں نے ایک بیس سالہ نوجوان عزات حلاحلہ کو زبردست تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر گرفتار کرلیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
