مقبوضہ مشرقی القدس کو یہودی رنگ میں رنگنے کی اسرائیلی کارروائیاں تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ صہیونی حکام نے حال ہی میں شعفاط اور بیت حنینا کے علاقوں میں شاہراہ نمبر اکیس کی توسیع کے نام پر فلسطینیوں کی مزید 117 ایکڑ اراضی پر قبضہ کر لیا ہے۔
اہالیان القدس کو شہر بدر کرنے اور یہودی بستیوں کے ذریعے شہر کی اراضی پر قبضہ کرنے کی اپنی پالیسی پر عمل جاری رکھتے ہوئے صہیونی بلدیہ نے یہودی بستی ’رمات شلومو‘‘ کو سہولیات فراہم کرنے والی شاہراہ کی توسیع اور تعمیر کا تیز کر دیا ہے۔ اس شاہراہ کے ذریعے رامات شلومو اور بسغات زئیف بستیوں کو ملا دیا جائے گا۔ اس طرح یہ شاہراہ راموت بستی تک جائے گی اور بابرکت شہر میں موجود متعدد یہودی بستیوں کو آپس میں ملا دے گی۔
اسرائیل کی جانب سے تعمیر کی جانے والی شاہراہ نمبر اکیس مرکزی سڑک شمار ہوتی ہے جو شعفاط اور رام اللہ کو ملانے والی سڑک کا متبادل بھی ہے۔ شفاط کیمپ کے اہالیان نے اس شاہراہ کی تعمیر کو فی الفور روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ 1948ء میں قائم ہونے والا اسرائیل 1967ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے بعد سے مشرقی القدس پر قابض ہے۔ صہیونی کنیسٹ 1980ء میںمغربی اور مشرقی متحدہ القدس کو یہودی ریاست کا دار الخلافہ قرار دے چکا ہے۔ مشرقی القدس میں داخلے کے روز سے اب تک صہیونی حکام مشرقی القدس میں آبادی کے تناسب کوتبدیل کرنے اور قبلہ اول مسجد اقصی سمیت مسلمانوں کے مقدس مقامات کو یہودی رنگ میں رنگنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ پورے مغربی کنارے میں بالعموم اور مشرقی القدس میں بالخصوص یہودیوں کو لاکر بسایا جا رہا ہے۔ مشرقی القدس میں تیس کے لگ بھگ یہودی بستیاں قائم کر لی گئی ہیں۔

