(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) یہودی آباد کاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ پریلغار اور مقدس مقام کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری وساری ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارچ کےمہینے میں ایک ہزار 1114 یہودی آباد کاروں نے قبلہ اوّل میں داخل ہوکر مقدس مقام کی بے حرمتی کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی خبر رساں اداروں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مارچ کے دوران یہودی آباد کار حسب معمول اسرائیلی فوج اور پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں قبلہ اوّل میں داخل ہوتے، فلسطینی نمازیوں سے الجھتے، مقدس مقام کی بے حرمتی کرتے اور تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرتے رہے۔یہودی آباد کاروں کے ساتھ ساتھ ان کے مذہبی پیشوا، پولیس اہلکار، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے غنڈے اور سادہ کپڑوں میں ملبوس فوجی بھی مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر اس کی بے حرمتی کرتے رہے۔
رپورٹ کے مطابق مارچ میں کل 846 یہودی آباد کاروں، 268 یہودی طلباء اور ان کے رہنماؤں نے قبلہ اوّل میں داخل ہوکر مسجد کی بے حرمتی کی۔ یہودی آباد کاروں کو معمول کے مطابق قبلہ اوّل کے مراکشی دروازے سے اندر داخل کیاجاتا اور ’’باب السلسلہ‘‘ سے باہر نکالا جاتا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ یہودی آباد کاروں کی آمد کا سلسلہ کسی خاص وقت تک محدود نہیں۔ دن بھر یہودی شرپسند قبلہ اوّل میں داخل ہوتے رہے ہیں۔ مگر سب سے زیادہ یہودیوں کی آمد صبح اور شام کے اوقات میں جاری رہی۔ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے دن 11 بجے تک یہودیوں کو قبلہ اوّل میں داخلے کے لیے فری ہینڈ دیا جاتا رہا ہے۔ اس دوران فلسطینی شہریوں اور مسجد میں قائم مدرسے کے طلباء کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
