انسانی حقوق کے ادارے تضامن نے بتایا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ادارے نے نابلس سے تعلق رکھنے والے ایک اسیر سے 11 سال کی قید کے بعد دوبارہ تفتیش شروع کردی ہے۔
تضامن کے وکیل محمد عابد نے کہا،” اسرائیلی خفیہ ادارے نے 28 سالہ اسیر عامر شہادہ ترابی کو رامون جیل سے بتاح تکفا تفتیشی مرکز منتقل کردیا تاکہ ان سے جیل سے باہر مالی مراعات حاصل کرنے کے تفتیش کی جائے۔”
عابد نے اسیر سے تفتیشی مرکز میں ملاقات کی اور بتایا کہ شاباک عامر ترابی سے ان پیسوں اور جیل کے اندر ان کی سرگرمیوں کے بارے میں تفتیش کررہی ہے اور عامر ترابی ان کے تمام الزامات مسترد کر چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ترابی کو 31 اکتوبر 2002ء کو بم نصب کرنے، اسرائیلی گاڑی پر فائرنگ کرنے اور شہدا الاقصٰی بریگیڈ سے تعلق رکھنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ انہیں 11 سال اور 9 ماہ کی قید سنائی گئی تھی۔ عامر ترابی نے 8 ستمبر کو بتاح تکفا میں عدالت کے سامنے پیش ہونا ہے۔
دوسری طرف احرار سنٹر برائے مطالعہ اسیران اور انسانی حقوق نے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام نے الخلیل سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ اسیر ایہاب القواسمی کو ان کی 20 ماہ کی قید ختم ہونے کے بعد 6 ماہ کی انتظامی حراست میں رکھ لیا گیا ہے۔
سنٹر کے ڈائریکٹر فواد خفش نے انسانی حقوق اور قانونی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسیر ایہاب اور تمام 126 اسیروں کی رہائی کو یقینی بنائیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
