ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مئی کے دوران اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے کی اردن سے ملحق الکرامہ کراسنگ پر 105 فلسطینیوں کو سفر سے روکا اور انہیں سکیورٹی وجوہات کی بناء پر بیرون فلسطین جانے سے منع کردیا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل ہر سال ہزاروں شہریوں کو سفر کی آزادی سے محروم کردیتا ہے۔
اریحا کی پولیس کےمطابق 46194 شہریوں نے الکرامہ کراسنگ سے اردن اور دیگر ممالک جانے کی کوشش کی جس میں سے 105 افراد کو اسرائیلی حکومت نے بیرون ملک جانے سے روک دیا۔
سفر سے روکے جانے والوں میں فلسطینی طلبہ، دوسرے ممالک کے رضا کار اور تاجر شامل ہیں، ان سب کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے الکرامہ کراسنگ پر توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا گیا اور سفر کےحق سےمحروم کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے ان مسافروں کو گھنٹوں بٹھائے رکھا، ان سے تفتیش کی جاتی رہی اور طویل انتظار کروانے کے باوجود انہیں بیرون ملک نہ جانے دیا گیا۔ اس دوران اسرائیلی اہلکار مسافروں کو اذیت سے دوچار کرنے کے مختلف حربے استعمال کرتے رہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
