انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر میں متعین ایک عہدے دار نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ”حکومت نے یروشیلم میں ایک ہزار سے زیادہ مکانوں کی منصوبہ بندی کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں سے چار سو یہودی بستی ہارحوما اور قریباً چھے سو رامات شلومو میں تعمیر کیے جائیں گے۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہود کی آبادکاری کی مخالف اسرائیل کی ایک غیر سرکاری تنظیم ”اب امن” کے عہدے دار لیور آمیچائی نے کہا ہے کہ ”اس وقت یروشیلم جل رہا ہے اور اس قسم کے منصوبے کے لیے یہ مناسب وقت نہیں ہے”۔
ان کا اشارہ مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کو بسانے کے خلاف فلسطینیوں کے کم وبیش روزانہ احتجاجی مظاہروں کی جانب تھا۔ اس مقدس شہر کے علاقے سلوان میں یہودی آبادکاروں کی جانب سے عربوں کی جائیدادوں کو زبردستی ہتھیانے کے خلاف فلسطینی سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ ہر روز رات کو احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی عہدے دار کے بیان سے یہ واضح نہیں ہے کہ آیا حکومت تعمیرات کے لیے ٹینڈرز جاری کرنے کے قریب ہے یا وہ ابتدائی مراحل میں موجود اس منصوبے کو تیز کرنا چاہتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
