فلسطین میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” اور الفتح کے اشتراک سے قائم کی گئی مخلوط قومی حکومت نے غزہ کی پٹی میں اسماعیل ھنیہ کی سربراہی میں قائم پچھلی حکومت کے ملازمین کو فی کس 1000 ڈالر کی رقم تنخواہ کی مد امیں ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی ایمپلائز یونین کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ انہیں غزہ کے ملازمین کو ایک ہزار ڈالر فی کس ادا کرنے پرکوئی اعتراض نہیں ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ ایمپلائیز یونین کے ترجمان محمد صیام نے اپنے ایک بیان میں میڈیا میں آنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یونین نے ایک ہزار ڈالر کی رقم مسترد کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی حکومت کی جانب سے ایک ہزار ڈالر کی رقم ادا کرنے کا اعلان خوش آئند ہے۔ ایمپلائیز یونین نے تجویز کی مخالفت نہیں کی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ ایمپلائیز یونین کے ترجمان محمد صیام نے اپنے ایک بیان میں میڈیا میں آنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یونین نے ایک ہزار ڈالر کی رقم مسترد کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی حکومت کی جانب سے ایک ہزار ڈالر کی رقم ادا کرنے کا اعلان خوش آئند ہے۔ ایمپلائیز یونین نے تجویز کی مخالفت نہیں کی ہے۔
محمد صیام کا مزید کہنا تھا کہ غیرضروری طور پر اختلافات کی خبریں اچھال کر دراصل غزہ کی سابق حکومت کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی سے محروم کرنے کا ایک ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کی جانب سےایسی کوئی مخالفت سامنے نہیں آئی ہے۔
قبل ازیں فلسطینی وزیر انصاف سلیم السقا نے اپنے ایک بیان میں بتایا تھا کہ قومی حکومت سنہ 2007ء سے اپریل 2014ء تک غزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت سے وابستہ تمام ملازمین کو فی کس 1000 ڈالر کی رقم ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی حکومت رواں ماہ کے آخر تک یہ رقم تمام ملازمین کو فراہم کردے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
