مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق رام اللہ میں ایوان صدر کی سیکیورٹی کے لیے مزید ایک ہزار اہلکاروں کی بھرتیوں کی خبر ایک ایسے وقت میں منظرعام پر آئی ہے جب دوسری جانب غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں محکمہ صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں کے سرکاری ملازمین پچھلے کئی ماہ سے تنخواہوں سے بھی محروم ہیں۔ ان شعبوں میں پچھلے کئی سال سے کسی ایک فرد کی بھرتی بھی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔
ایک طرف فلسطینی اتھارٹی بجٹ کی کمی کا مسلسل ڈھنڈورہ پیٹ کر یہ باور کرانے کی کوشش کررہی ہے کہ اس کے پاس بجٹ نہ ہونے کے باعث وہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں جاری نہیں کرسکتی ہے اور دوسری جانب صرف صدر محمود کی سیکیورٹی کے لیے 1000 اہلکاروں کو بھرتی کیا جا رہا ہے۔ اگر بجٹ کی کمی ہے تو رام اللہ حکومت ان ایک ہزار نئے پولیس اہلکاروں کو کیوں کر بھرتی کررہی ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فلسطینی اتھارٹی بجٹ کی کمی کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کا بھی شکار ہے اور اتھارٹی میں کئی بدعنوان عناصر موجود ہیں مگر اس کے باوجود ایک ہزار پولیس سیکیورٹی اہلکاروں کی بھرتی محض اسراف ہے۔
