فلسطین میں ماہ صیام کے آغاز میں محمد ابو خضیر نامی ایک بچے کی انتہا پسند یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں شہادت کے واقعے کے بعد اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کرنے والے 1000فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
حراست میں لیے جانے والوں میں بیت المقدس اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی شہروں سے تعلق رکھنے والے شہری بھی شامل ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بدھ 23 جولائی کو اسرائیلی پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران بیت المقدس اور سنہ 1948ء کے علاقوں میں فلسطینی شہریوں کے خلاف طویل کریک ڈاؤن کیا گیا۔ اس دوران بیت المقدس سے 295 شہریوں کو حراست میں لیا گیا، ان میں سے 71 پر پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ حراست میں لیے گئے فلسطینیوں پر الزام ہے کہ وہ ابوخضیر نامی ایک نوعمر فلسطینی کی یہودی آبادکاروں کے ہاتھوں شہادت کے بعد اسرائیل کے خلاف پرتشدد مظاہرے منظم کرنے میں ملوث تھے اور دوسرے شہریوں پر پرتشدد کارروائیوں پر اکسا رہے تھے۔
بیت المقدس کے علاوہ دوسرے مقبوضہ شہروں سے 636 شہریوں کو حراست میں لیا گیا، جن پرتشدد کے الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
