وزیر ہاوسنگ اور تعمیرات اوری اریئیل نے جمعرات کے روز بیت لحم میں فلسطینی زمینوں پر تعمیر شدہ یہودی بستی غوش عصتیون میں ایک ہزار نئے ہائوسنگ یونٹ تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
یہ تعمیراتی منصوبہ اسرائیلی ہائوسنگ اور جنگ کے وزراء اور غوش عصتیون کی علاقائی کونسل کے سربراہ کے درمیان ملاقات میں منظور کیا گیا ہے۔ عبرانی ذرائع کے مطابق ان 1000 ہائوسنگ یونٹس میں سے 650 اپارٹمنٹ پہلے سے تعمیر شدہ ہیں جن کو اب جنگ کے وزیر موشے یعلون نے منظور کیا ہے۔
اسی دوران عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت نے بدھ کے روز یہ انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نابلس کے دیہات بیت فوریک و عورتا میں ایتمار بستی میں 675 نئے ہائوسنگ یونٹ تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
اخبار کے مطابق منصوبہ کے مطابق اس یہودی بستی کو اس کے موجودہ سائز سے دوگنا کردیا جائے گا۔
اسرائیلی ادارے "پیس نائو” نے اس نئے آبادکاری منصوبے پر اپنے تاثرات اخبار کو بتاتے ہوئے کہا کہ "نیتن یاہو نے اصول بدلنے اور مذاکرات کی بحالی کے ہر موقع کو ضائع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ حکومت کو بستیوں کی تعمیر سے عادت پڑ گئی ہے جو کہ کسی بھی معاہدے کے تحت اسرائیل میں نہیں ہیں۔ اب اس سارے معاملے کے سفارتی اور مالیاتی خسارے اسرائیلی شہریوں کو اٹھانے پڑیں گے۔”
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
