اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں یہودی بستیوں کے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ تل ابیب کے اس اقدام سے امریکی سرپرستی میں ہونے والا امن عمل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ مقبوضہ فلسطین میں یہودی بستیوں کی مانیٹرنگ کرنے والی غیر سرکاری آبزرویٹری ‘ٹرسٹال یروشلم’ کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت مشرقی یروشلم میں یہودیوں کے لئے ایک ہزار گھر تعمیر کئے جائیں گے۔
آبزرویٹری نے مزید انکشاف کیا ہے کہ راموت یہودی بستی میں تین سو مکانات کی تعمیر کا معاہدہ طے پا چکا ہے جبکہ مغربی کنارے میں بیت لحم کی نزدیک جیلو یہودی بستی میں آٹھ سو گھر فروخت کے لئے پیش کئے جائیں گے۔
تل ابیب نے اس منصوبے کی منظوری امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورے کے بعد دی۔ اس دورے کا مقصد فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان تعطل کے شکار امن مذاکرات کو از سر نو شروع کرنا ہے۔
مقبوضہ فلسطین میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے آبادکاری منصوبوں نے تل ابیب کے آبادکاری عمل کو منجمد کرنے سے متعلق تمام وعدوں کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
