اسرائیل نے پندرہ مئی 1948ء کو فلسطین کے بڑے حصے پر قبضہ کرکے نام نہاد صہیونی ریاست قائم کی تھی۔ اس موقع پر ہزاروں فلسطینیوں کو شہید اور لاکھوں کو ہجرت پر مجبور کردیا گیا تھا۔ فلسطینی ہر سال اس دن کو یوم نکبہ (بڑی مصیبت کا دن) کے طور پر مناتے ہیں۔
فلسطین کے ساتھ ساتھ اردن میں بھی فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے نکبہ کی مناسبت سے تقریبات کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ اس سال مئی کے مہینے میں نکبہ کی یاد میں یہاں سو سے زائد تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔
فلسطینی مہاجرین کی وطن واپسی کی اردنی ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں تقریبات کا اہتمام کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے سربراہ نے بتایا کہ یہ تقریبات فلسطینی ثقافت، مسئلہ فلسطین سے آگاہی، فلسطینی آثار قدیمہ اور دیگر مختلف شعبوں کے حوالے سے منعقد کی جائیں گی۔ اردن میں فلسطینی مہاجر کیمپوں اور دیگر علاقوں میں منعقد کی گئی ان تقریبات میں دیگر شہری تنظیمیں بھی شریک ہیں۔
ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر ایمن الدقس کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم اس طرح کی تقریبات کا انعقاد فلسطینی شناخت کے تحفظ کی عالمی مہم کے تحت کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں اڑھائی سو سے زائد تنظیمیں فلسطینی شناخت کو زندہ رکھنے کے لیے سرگرم ہیں اور فلسطینی مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے کوشاں ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
