فلسطین بھر کی سو سے زائد تنظیموں کی یونین نے گزشتہ روز حماس اور فتح کے مابین دوحہ اعلامیے کو خوش آئند قرار دیا ہے اور عبوری حکومت کےقیام پر اتفاق کے بعد دونوں جماعتوں سے مفاہمت
پر عمل درآمد کے لیے بنائی گئی کمیٹیوں کی سفارشات کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
فلسطینی تنظیموں کے نیٹ ورک نے بالخصوص بنیادی آزادیوں کی کمیٹی کی تجاویز کے مطابق سیاسی گرفتاریوں کے خاتمے اور غزہ اور مغربی کنارے کے مابین آزادانہ سفر کے لیے اقدامات اٹھانے کی اپیل بھی کی۔
فلسطینی مقامی تنظیموں کے نیٹ ورک نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے دوحہ میں ہونے والے حماس اور فتح کے مابین معاہدے کی تائید اور حمایت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر ایک مفاہمت کی تائید میں ایک پیپر جاری کیا گیا جس پر سو تنظیموں کے دستخط موجود تھے۔ نیٹ ورک کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ محسن ابو رمضان نے بتایا کہ پیپر کو دستخط کرنے کے ایک ماہ بعد جاری کیا جا رہا ہے جس کا مقصد تمام فلسطینی حلقوں سے یہ اپیل کرنا ہے کہ وہ فلسطینی مفاہمت کی تائید کریں اور اس ضمن میں تمام ممکنہ کوششوں کو بروئے کار لائیں۔
دوسری جانب مقامی تنظیموں کے نیٹ ورک کے ڈائریکٹر امجدالشوا نے آزادیوں اور قومی مانیٹرنگ کی کمیٹی کی سفارشات پر جلد عمل کرنے کی اپیل کی۔ الشوا نے فلسطینی مفاہمت پر دی جانے والی تمام اسرائیلی دھمکیوں کو سرے سے رد کرتے ہوئے کہا کہ اب دوحہ اعلامیے کے بعد تقسیم اور اختلافات کی طرف لوٹنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہ گئی۔

