(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں یکم اکتوبر 2015 ء کے بعد سے جاری تحریک انتفاضہ کو 100 دن مکمل ہوگئے ہیں۔ ان ایک سو دنوں کے دوران اسرائیلی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 145 فلسطینی شہری شہید اور 27 صہیونی ہلاک ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق القدس اسٹڈی سینٹر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں تحریک انتفاضہ کے ایک سو ایام کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحریک انتفاضہ کے ایک سو دن مکمل ہوئے ہیں۔ اس عرصے میں فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس، مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور سنہ 1948 ء کے شمالی اور جنوبی فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 145 فلسطینی شہری شہید اور 15 ہزار 848 زخمی ہوئے ہیں۔فلسطینی شہریوں کی مزاحمتی کارروائیوں میں 27 صہیونی ہلاک اور 350 زخمی ہوئے۔ فلسطینیوں کی جانب سے مختلف مزاحمتی اسلوب اختیار کیے گئے جن میں فائرنگ کے ذریعے 77 صہیونی زخمی کیے گےے، چاقو کے حملوں میں 44 بار یہودیوں کو نشانہ بنایا گیا جب کہ 19 بار گاڑیوں تلے کچلنے کے واقعات رونما ہوئے۔ اس دوران اسرائیلی فوجیوں نے 3422 فلسطینیوں کو حراست میں لے کر تحریک مزاحمت کچلنے کی ناکام کوشش کی۔
تحریک انتفاضہ کے شہداء
رپورٹ کے مطابق یکم اکتوبر 2015 ء کے بعد سے جاری تحریک انتفاضہ کے دوران ایک سو ایام میں 145 فلسطینی شہید ہوئے۔ الخلیل شہر شہداء کے حوالے سے پہلے نمبر پررہا جہاں کے 42 شہداء نے اپنے خون سے تحریک انتفاضہ کی آبیاری کی۔
اسرائیلی فوج اور یہودی شرپسندوں کی دہشت گردی کے نتیجے میں 28 بچے اور 12 خواتین بھی شہید ہوئیں۔ 20 سال سے کم عمر شہداء کی تعداد 46 درج کی گئی ہے۔
پچھلے سال نومبر میں 33 فلسطینی اسرائیلی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے جو کل شہداء کا 32 فی صد ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 53 فی صد فلسطینی شہری انفرادی نوعیت کی مزاحمتی کارروائیوں میں شہید کیے گئے۔
زخمیوں کی تفصیلات
تحریک انتفاضہ کے 100 ایام میں اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں کم سے کم 15 ہزار 848 فلسطینی زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں سے 27 فی صد کو براہ راست گولیاں ماری گئیں۔ بڑی تعداد میں شہر غزہ کی پٹی میں بھی زخمی ہوئے جہاں اسرائیلی فوجیوں نے نہتے اورپرامن فسطینی مظاہرین کے جلوسوں پر فائرنگ، آنسوگیس کی شیلنگ کی اور ان پر دھاتی گولیوں سے حملے کیے۔ غزہ کی پٹی کے بعد رام اللہ اور الخلیل شہروں میں بھی بڑی تعداد میں شہری زخمی ہوئے ہیں۔
یہودی شرپسندوں کے حملے
تحریک انتفاضہ کے ایک سو ایام میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے بھی فلسطینیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس عرصے میں یہودی شرپسندوں کی جانب سے فلسطینیوں کی جان ومال پر 352 حملے کیے۔ ان میں 180 حملے فلسطینیوں کی کاروں پر کیے گئے۔ 74 مرتبہ فلسطینیوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ فلسطینیوں کی املاک، جائیدادوں، دکانوں، گھروں اورگاڑیوں سمیت دیگر ہرطرح کی املاک کو نقصان پہنچانے میں یہودی شرپسند پیش پیش رہے۔
صہیونی دشمن کو پہنچنے والا نقصان
تحریک انتفاضہ کے ایک سو ایام میں قابض صہیونی دشمن کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے مزاحمتی حملوں میں 27 صہیونی جہنم واصل ہوئے۔ 11 یہودیوں کو فائرنگ کے واقعات میں ہلاک کیا گیا۔ ان میں پانچ یہودی مغربی کنارے اور چار بیت المقدس میں ہلاک کیے گئے۔۔ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں حماس کے کارکنوں نے چار یہودیوں کو ہلاک کیا۔ دو یہودی اسلامی جہاد کے مجاھدین کے حملوں میں جان سے گئے جب کہ ایک یہودی انفرادی شہری کی کارروائی میں بئر سبع میں ہلاک ہوا۔
فلسطینیوں کی مزاحمتی کارروائیوں میں 350 یہودی زخمی ہوئے۔ فلسطینیوں کی جانب سے یہودی آباد کاروں پر 2940 مزاحمتی حملے کیے گئے۔ 920 مرتبہ یہودی آباد کاروں پر پٹرول بم پھینکے گئے۔ 77 بار فائرنگ کی گئی۔ 22 راکٹ داغے گئے اور 77 مرتبہ چاقو سے حملے جب کہ 19 مرتبہ گاڑیوں کی ٹکر سے یہودیوں کو کچلا گیا۔
