مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزیر مذہبی امور الشیخ یوسف ادعیس نے اپنے ایک پریس بیان میں کہا کہ پچھلے ایک سال کے دوران یہودی غنڈہ گردوں نے مذہبی رسومات کی ادائی کی آڑ میں فلسطین کے مقدس مقامات کی 1345 بار بے حرمتی کی۔ ان میں مسجد اقصیٰ اور مسجد ابراہیمی سرفہرست ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت اور اس کے ایگزیکٹو اداروں کی جانب سے مقدس مقامات کو دانستہ طور پر پر تشدد کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کا اعلان ہوتے ہی تمام سیاسی گروپوں نے مسجد اقصیٰ کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بناتے ہوئے اس کے خلاف ریشہ دوانیاں تیز کرنے اور پر مکمل قبضے کے بعد مقدس مقام کو یہودی مذموم ہیکل سلیمانی میں تبدیل کرنے کی سازشیں تیز کردی گئیں۔
فلسطینی وزیر یوسف ادعیس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پولیس اور فوج کی جانب سے پچھلے ایک ماہ میں کئی بار دانستہ طور پر مسجد اقصیٰ کو خالی کرانے کی کوشش کی گئی تاکہ یہودی انتہا پسند مسلمانوں کے قبلہ اول میں داخل ہونے کے بعد اپنی مرضی سے اس کی بے حرمتی کرسکیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
