فلسطینی شہرویں کی خوشیوں کو غموں میں تبدیل کرنے میں اسرائیلی فوج کے بعد اب فلسطینی اتھارٹی کی پولیس بھی پیش پیش ہے۔ عباس ملیشیا نے ایک فلسطینی نوجوان کو اس کی شادی سے محض دس دن قبل حراست میں لے ایک حراستی مرکز منتقل کیا ہے جہاں اس پر وحشیانہ تشدد کیا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی سیاسی کارکن فادی حمد کے اہل خانہ، اس کی منگیتر اور سسرالی رشتہ سب پریشان اور سراپا احتجاج ہیں۔ گذشتہ روز انہوں نے حمد کی گرفتاری پر رام اللہ کے وسطی علاقے دوار المنارہ کے مقام پر ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ مظاہرین نے فادی حمد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور اس پر دوران حراست ہونے والے وحشیانہ تشدد کی شدید مذمت کی۔
مظاہرے میں فادی حمد کی منگیتر بھی موجود تھیں۔ انہوں نے مرکزاطلاعات فلسطین سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ہمارے احتجاج کا مقصد فلسطینی صدر محمود عباس کو یہ پیغام پہنچانا ہے کہ وہ ہماری خوشیوں میں رکاوٹ پیدا کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کریں اور فادی حمد کو فوری طورپر رہا کریں تاکہ وہ اپنی شادی خانہ آبادی کی خوشیوں میں شریک ہوسکے۔
ایک سوال کے جواب میں فادی حمد کی منگیترنے کہا کہ اس کے ہونے والے شوہرکو بھونڈے اور ناقابل قبول الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ فلسطینی پولیس کو معلوم تھا کہ ہماری 30 اگست کو شادی طے پا چکی ہے، لیکن اس کے باوجود فادی کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عباس ملیشیا ہمارے خاندانوں کی خوشیوں کو غموں میں تبدیل کرنے کی سازش کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فادی حمد کو پہلے بھی عباس ملیشیا کی جیلوں میں قید رکھا جا چکا ہے۔ اسے پندرہ دن تک جسمانی ریمانڈ کے لیے پولیس کے حوالے کیا گیا۔ پولیس اہلکاروں نےاس پر دوران حراست وحشیانہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں اس کی حالت بری طرح بگڑ گئی تھی اور اس پرتشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
فادی حمد کے ایک دوسرے عزیز نے بتایا کہ حمد کچھ ہی ماہ قبل اسرائیل کی جیلوں سے رہا ہوا ہے اور اب فلسطینی اتھارٹی نے اسے ایک ایسے وقت میں حراست میں لیا ہے جب اس کے اہل خانہ اس کی شادی کی تیاریاں کررہے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ فادی حمد کو اسرائیلی جیلوں میں 25 ماہ تک قید رکھا گیا۔
