مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مسیحی۔ مسلم دفاع مقدسات کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر حنا عیسٰی نے بیت المقدس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران رپورٹ کے مندرجات پڑھ کرسنائے۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری اسرائیل کی نسلی تطہیر کی گھاونی سازشوں میں سے ایک خوفناک سازش ہے۔ رواں سال جولائی سے اب تک بیت المقدس میں فلسطینیوں کے 59 مکانات کو غیرقانونی قرار دے کر انہیں گرادیا گیا جبکہ سنہ 2004ء کے بعد سے اب تک مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کے مجموعی طور پر 517 مکانات مسمار کیے گئے جس کے نتیجے میں 2000 افراد اپنے گھروں اور مکان کی چھت سے محروم ہوگئے۔
ڈاکٹر حناعیسیٰ نے کہا کہ اسرائیل ایک منظم منصوبے کے تحت بیت المقدس کے ان تمام علاقوں سے فلسطینیون کو نکال باہر کرنا چاہتا ہے جہاں فلسطینی شہریوں کی آبادی کی اکثریت ہے۔ فلسطینیوں کی جبری ھجرت کا سلسلہ نیا نہیں اور نہ ہی ان کے مکانات مسماری کا ظالمانہ ہتھکنڈہ کوئی نئی بات ہے۔ جبری ھجرت اور جبری مکانات مسماری کا اصل مقصد فلسطینی باشندوں کو القدس سے نکل جانے پر مجبور کرنا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر حنا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ پچھلے 10 سال کے دوران مجموعی طور پر مسمار کردہ مکانات کے نتیجے میں 2028 افراد گھروں سے محروم کردیے تھے۔ ان میں اکثریت بچوں اور خواتین پر مشتم بتائی جاتی ہے۔
مکانات مسماری کے خلاف عالمی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے فلسطینی سماجی رہ نما نا کہنا تھا کہ دنیا کا کوئی قانون کسی متنازعہ علاقے میں کسی ملک کا حکومت کو یک طرفہ طور پر مقامی آبادی کے مکانات جائیدادوں کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ سنہ 1949 میں منظور کیے گئے چوتھے جنیوا معاہدے کی دفعہ 53 میں متنازعہ علاقوں میں مکانات مسماری اور جائیدادوں پر قبضے کی مخالفت کی گئی ہے۔ اسرائیل ان معاہدوں کو تسلیم کرتا ہے لیکن عملا ان کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا بھی مرتکب ہو رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عیسیٰ کا کہنا تھا کہ فلسطین میں اسرائیل کے غیرانسانی سلوک کی دیگر ان گنت مثالوں میں ایک مکانات کی مسماری بھی ہے۔ کیونکہ مکان کی چھت سے محروم ہونے والے فلسطینی خاندان بے یارو مددگار نہایت کسمپرسی کے عالم میں زندگی گذارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پچھلے دس سال سے مکانات مسماری کے نتیجے میں 1108 کم عمر افراد گھر کی چھت سے محروم کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ سنہ 1999 سے 2004ء کے درمیان مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کے 988 مکانات کو جزوی یا کلی طور پر مسمار کیا گیا۔ ان میں 814 مکانات مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی بلدیہ کے حکم پر گرائے گئے جبکہ 184 مکانات کے گرانے کا حکم براہ راست اسرائیلی وزارت داخلہ کی جانب سے دیا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
