مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں ایک خوفناک ٹریفک حادثے میں 10 فلسطینی بچے جاں بحق جبکہ بیس زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے آٹھ کی حالت نازک ہے۔
شہر کی جنوبی جبع چیک پوسٹ پر بچوں کو لیے جانے والی بس یہودی ٹرک سے جا ٹکرائی جس سے اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ یہ بس عناتا کے علاقے میں ایک اسکول کی تھی۔
ریڈ کراس کے ذرائع کے مطابق حادثے کے فورا بعد ایمبولنسزاور میڈیکل عملے نے جائے وقوعہ پر پہنچ کو امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور تم امافراد کو ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس خوفناک حادثے کے بعد فلسطین کے اراکین پارلیمان اور معروف رہنماؤں نے اسکول نور الھدی کے جاں بحق ہونے والے بچوں کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔ مسلمان اراکین پارلیمان نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ حادثہ فلسطین کی تاریخ کا اندوہناک واقعہ ہے جو پہلے سے اسرائیلی مظالم جھیلنے والی فلسطینی قوم کےلیے ایک امتحان سے کم نہیں۔
دوسری جانب اس حادثے کے بعد مغربی کنارے کے یہودی آباد کاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ معصوم بچوں کے اس حادثے پر جہاں ہر شخص غم سے نڈھال تھا تو دوسری جانب سنگدل یہودی آباد کاروں کی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔ انتہاءپسند یہودیوں نے سماجی روابط کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر پر اس المناک حادثے پر ایک دوسرے کو مبارک بادیں دیں۔
سماجی روابط کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے گئے پیغامات میں سےایک میں کہا گیا ’’یہ اچھا ہوا، سارے بچے فلسطینی تھی‘‘ ایک اور پیغام میں کہا گیا تھا ’’ یہ بس اسکول کے بچوں کو لے جارہی تھی، میری یہ دعا ہے کہ زخمی ہونے والے بچے بھی چل بسیں‘‘ ایک صہیونی نے اپنی خوشی کا اظہار اس طرح بھی کیا ’’چلو اچھا ہوا اب چھٹیاں بھی ہو جائیں گی‘‘
ایک پوسٹ پر درج تھا ’’زبردست، دہشت گرد کم ہو گئے‘‘ ایک اور یہودی کا کہنا تھا ’’ شکر ہے کہ سب فلسطینی تھے‘‘ تیسرا یہ کہ رہا تھا ’’میں تو کہتا ہوں کہ ایسے حادثے روز ہونا چاہیں‘‘
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

