امریکی تھینک ٹینک کی تیار کردہ ایک تازہ رپورٹ میں ایران کی یورنیم افزودگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے
کہ ایران اگلے دو سے چار ماہ میں یورنیم کی مطلوبہ مقدار افزودہ کرنےمیں کامیاب ہو جائے گا جس کے بعد آٹھ سے دس ماہ میں جوہری بم تیار کر لے گا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسٹیٹیوٹ فار سائنس و عالمی سلامتی جو کہ ایک غیرسرکاری تحقیقاتی ادارہ ہے نے اپنی تازہ رپورٹ کی جوہری بم کی تیاریوں پر ایک جائزہ پیش کیا ہے۔ رپورٹ میں امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کا ایک بیان بھی نقل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران اگلے ایک سال میں جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے بعد بم تیار کرلے گا۔ ان کاکہنا تھا کہ ایران یورنیم کی مطلوبہ مقدار اگلے چند ماہ میں پوری کرلے گا جس کے بعد تہران کے لیے جوہری بم بنانے کے راستے کھل جائیں گے۔
رپورٹ میں عالمی توانائی ایجنسی کی رپورٹس کے بھی حوالے دیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ عالمی ایجنسی بھی یہ کہہ چکی ہے کہ ایران کو یورنیم کی دو ماہ کی افزودگی درکار ہے۔ اس کے بعد ایران مطلوب مقدار یعنی مزید 25 کلو گرام یورنیم تیار کرلے گا۔ جو کہ کل مقدار یعنی دو سو کلوگرام یورنیم افزودگی کے بعد جوہری بم کی تیاری آسان ہو جائے گی۔ اس سارے عمل پردو سے چار ماہ کا عرصہ در کار ہوگا۔
رپورٹ میں خبردار کرتے ہوئے امریکی موقف کی حمایت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ تہران کا پرامن جوہری توانائی کے حصول کا دعویٰ محض ایک دھوکہ ہے۔ ایران تیزی کے ساتھ جوہری اسلحے کی دوڑ میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عین ممکن ہے کہ ایران جوہری بم تیار کرنے کے بعد اس کے سرعام تجربات نہ کرے اور زیرزمین تجربات کرنے کے بعد خاموشی سے مزید بم تیار کرنے میں لگا رہے۔ کیونکہ ایران کی بظاہر پالیسی ایسی ہی دکھائی دیتی ہے۔ امریکا میں تیار کی گئی اس رپورٹ پرایران کی جانب سے کوئی رد عمل تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
