قابض اسرائیلی حکام نے فلسطینی اسیر مصطفٰی السخل دس سال قید کے بعد دوبارہ تفتیش کی غرض سے طلب کر لیا ہے۔ 28 سالہ سخل کو اپریل 2003 میں حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں 11 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
سنٹر برائے مطالعہ اسیران نے سخل خاندان کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں نے ان کے عزیز کو دس سال کی قید کے بعد دوبارہ تفتیش کے لئے طلب کرلیا ہے۔
سخل کے بھائی نائل کو وفاء الاحرار معاہدے کے تحت رہا کردیا گیا تھا اور انہیں 2011 میں غزہ بے دخل کردیا گیا تھا۔ ان کے بھائی کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
قابض اسرائیلی فوج نے مصطفیٰ السخل کے مرحوم والد سعدی السخل کے گھر پر کئی دفعہ دھاوا بولا تھا اور تمام گھر والوں سے متعدد بار تفتیش کی تھی۔ سعدی السخل پانچ ماہ قبل نابس میں انتقال کرگئے تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
