مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق تازہ ترین ڈرون حملہ بدھ 22 ف جنوری کو شمالی غزہ میں بیت حانون میں ایک کار پرکیا گیا۔ کارمیں دو فلسطینی مزاحمت کارو سوارتھے۔ ڈرون حملے میں دونوں کے جسم کے اعضاء دور دور تک جا گرے، جس کے نتیجے میں وہ موقع پرہی دم توڑ گئے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اس ڈرون حملے کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتےہوئے اسرائیل کو جنگی مجرم قرار دیا ہے۔
مرکزبرائے انسانی حقوق کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں اپنے مخصوص اہداف پرحملوں اور مزاحمت کاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے لیے ڈرون کا استعمال کر رہی ہے جس کے نتیجے میں اب تک سیکڑوں عام شہری شہید اور سیکڑوں ہی زخمی ہوچکے ہیں۔
اس کےعلاوہ فضائی بمباری سے بڑی تعداد میں بچے اور خواتین بھی شہید کی جا چکی ہیں۔ تاہم اس امر کاتعین کرنا مشکل ہے کہ آیا انہیں ڈرون طیاروں سے نشانہ بنایا گیا یا دوسرے جنگی جہازوں سے بمباری کرکے انہیں قتل کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2004 ء کے بعد سے اب تک صہیونی ڈرون طیاروں کے ذریعے کی گئی بمباری میں 640 فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں۔ ان میں 395 عام شہری، 134 بچے اور 14 خواتین بھی شامل ہیں۔ ان حملوں میں 440 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 402 عام شہری اور 365 بچے اور چار عورتیں شامل ہیں۔
مرکز برائے حقوق فلسطین کی جانب سے اسرائیلی ڈرون حملوں کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے عالمی انسانی حقوق کے اداروں اورعالمی عدالت انصاف سے ان ڈرون حملوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ادارہ صہیونی فوج کے ڈرون حملوں سے شہید ہونے والے نہتے شہریوں کے بارے میں اگرکوئی مواد حاصل کرنا چاہے تو ہم اس میںمعاونت کریں گے۔
شکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
