اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے کی 09 یہودی بستیوں میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے، سب سے بڑی توسیع مغربی کنارے کے شمالی شہر سلفیت کے مغرب میں واقع بستی ”بورخین” میں کی جائے گی۔
اسرائیلی سول انتظامیہ کے زیر تحت کام کرنے والی ”سپریم کونسل آف آرگنائزیشن” نے فلسطینی دیہاتوں کی اراضی کو استعمال کرتے ہوئے 09 یہودی بستیوں میں توسیع کا اعلان کیا۔ 150 نمبر پروجیکٹ کے مطابق یہودی بستی ”روخیم” میں توسیع کے لیے فلسطینی کفرالدیک، سرطہ اور بروقین کی اراضی استعمال کرکے ساڑھے پانچ سو نئے رہائشی یونٹ تعمیر کیے جائیں گے۔
القدس کے علاقے بیت الشرق کی شعبہ نقشہ نویسی کے ڈائریکٹر خلیل تفکجی نے ”مرکز اطلاعات فلسطین” کو بتایا کہ روخیم یہودی بستی کی توسیع کے منصوبے کے تحت 550 نئے گھر تعمیر کیے جائیں گے۔ یہودی بستی ”ایتمار” کے توسیعی منصوبے 3\163 کے تحت عورتا گاؤں میں ایک شاہراہ تعمیر کی جائے گی، اس طرح شاہراہ کے اطراف کی بہت سی فلسطینی زرعی اراضی کو رہائشی زمین میں تبدیل کردیا جائے گا۔ اور یہاں پر تین نئی بستیاں تعمیر کی جائیں گی اور چھ بستیوں میں توسیع کی جائی گی۔
خیال رہے کہ نابلس اور وادی اردن کی اراضی پر موجود یہودی بستی ایتمار، جس کی مسافت پانچ مربع کلومیٹر ہے، میں بہت سے نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، بالخصوص یہاں پر یہودی رہنماؤں کے لیے گھروں کی تعمیر کی گئی ہے۔ اسرائیلی اعلان کے مطابق 323 گھروں پر مشتمل اس بستی کے گھروں کی تعداد دو گنا کردی جائے گی۔
”بورخین” یہودی بستی کے اعلان کردہ توسیعی منصوبے کے مطابق اس سال کے آخر تک اس بستی کے گھروں کی تعداد پانچ گنا کردی جائے گی۔ اسرائیلی حکومت اس بستی میں 550 نئے گھروں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ کھیل کا میدان اور مختلف سہولیات فراہم کرنے والے سنٹرز بھی تعمیر کرے گی۔ ان تعمیرات میں 2582 ایکڑ اراضی استعمال ہوگی۔ خلیل تفکجی نے بتایا کہ اس منصوبے کا فیصلہ گزشتہ سال اپریل میں کیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
